بنوں اور لکی مروت: خیبر پختونخوا کے اضلاع بنوں اور لکی مروت میں نام نہاد پولیس امن کمیٹیاں قانون کی معاونت کے بجائے جرائم پیشگی، بھتہ خوری اور متوازی طاقت کے غیر قانونی مراکز میں تبدیل ہو چکی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ان خود ساختہ کمیٹیوں میں پولیس سے برطرف شدہ کرپٹ عناصر اور مقامي جرائم پیشہ افراد شامل ہیں۔ سابق آئی جی خیبر پختونخوا اختر حیات خان کے دور میں بدعنوانی اور دہشت گرد نیٹ ورکس سے روابط کے الزامات پر برطرف کیے گئے یہ اہلکار اب غیر قانونی چیک پوسٹیں قائم کر کے عوام سے بھتہ اور تاوان وصول کر رہے ہیں۔
مذکورہ عناصر دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جدید اور بھاری ہتھیاروں کی سرِعام نمائش کرتے ہیں اور پولیس فورس کے قانونی اختیار کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ان گروہوں پر دہشت گردوں کی مخبری اور ان کو سہولت کاری فراہم کرنے کے سنگین الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
کمیٹی ارکان کی جانب سے سنگین مظالم کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ 10 دسمبر 2025 کو کانسٹیبل وحید اللہ پر چھٹی جماعت کے طالب علم کے مبینہ قتل کا الزام عائد ہوا، جبکہ کانسٹیبل داور خان کو سوشل میڈیا پر مخالفت کرنے پر نشانہ بنایا گیا۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ امن کے نام پر قائم یہ غیر مجاز ڈھانچے ریاستی رٹ اور عوامی تحفظ کے لیے سخت خطرہ ہیں۔ حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان مسلح گروہوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کر کے ان کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔