پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے درمیان حالیہ سیاسی رابطوں نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماضی کے سخت سیاسی حریف آج ممکنہ تعاون اور مشترکہ سیاسی حکمتِ عملی کے لیے ایک میز پر بیٹھے دکھائی دے رہے ہیں۔
دونوں جماعتوں کے درمیان ماضی کی سیاسی کشیدگی انتہائی شدید رہی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن کو بارہا ڈیزل کے لقب سے پکارا گیا، جبکہ جے یو آئی ف کی قیادت کی جانب سے عمران خان کو یہودی ایجنٹ قرار دینے جیسے سخت الزامات بھی سامنے آئے۔
یہ محض سیاسی اختلاف تک محدود نہیں رہا بلکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے کی قیادت کی ذات، کردار اور سیاسی نظریات کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ جلسوں، پریس کانفرنسوں اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال ہوتی رہی اور کارکن بھی اسی سیاسی کشمکش کا حصہ بنتے رہے۔
ایک وقت تھا جب پی ٹی آئی کے جلسوں میں ڈیزل کا لقب سیاسی طنز کے طور پر بار بار دہرایا جاتا تھا، جبکہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے عمران خان کے خلاف یہودی ایجنٹ کا الزام اتنا نمایاں ہوا کہ عمران خان نے اس پر قانونی کارروائی کی بات بھی کی تھی۔
لیکن آج سیاسی منظرنامہ یکسر مختلف دکھائی دے رہا ہے۔ وہی قیادتیں جو ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف انتہائی سخت مؤقف رکھتی تھیں، اب سیاسی رابطوں اور ممکنہ اتحاد کے لیے ایک ہی میز پر بیٹھ رہی ہیں۔
یہ تبدیلی سیاسی مفادات اور اصولی سیاست کے درمیان فرق پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔ اگر ماضی کے الزامات اور سخت بیانات سیاسی طور پر درست مؤقف تھے تو آج ان پر وضاحت یا نظرثانی کے بغیر سیاسی تعاون کیسے ممکن ہو رہا ہے؟
عوام کے لیے بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: کل جن رہنماؤں اور جماعتوں کے خلاف کارکنوں کو صف آرا کیا جاتا تھا، آج وہی قیادتیں سیاسی ضرورت کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ رہی ہیں۔
یوں پی ٹی آئی اور جے یو آئی ف کی موجودہ قربت اس بات کو نمایاں کرتی ہیں کہ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھا جا سکتا ہے وہ بھی تب جب ذاتی مفاد وابستہ ہو وگرنہ ریاست اور قوم کے لیے ایسی کوئی مثال ان دونوں جماعتوں کی جانب سے ہمیں نہیں ملتی۔
دیکھیے: مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مفاد کے ساتھ سیاسی قبلہ بدلنے کا الزام