وادیٔ تیراہ میں پی ٹی ایم کے ہفتہ وار اجتماعات پر ماہرین نے سوالات اٹھا دیے ہیں، مبینہ غیر ملکی فنڈنگ اور سکیورٹی فورسز کے خلاف بیانیے پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

August 24, 2026

زمینی شکست کے بعد فتنۃ الخوارج کی جانب سے مبالغہ آمیز حملوں اور سکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں کے جعلی دعوؤں کا پردہ چاک ہو گیا ہے۔ حقائق کے مطابق خوارج کے 50 فیصد دعوے جھوٹے اور ناقابلِ تصدیق ہیں۔

August 24, 2026

بنوں میں پولیس امن کمیٹی پر 90 لاکھ روپے کے عوض قاری رشید کے اغوا اور قتل کا الزام، ورثا نے پریس کلب کے باہر احتجاج کیا۔

August 24, 2026

بھارتی عسکری اکیڈمی میں کیڈٹ پرتھم مہالے کی ہلاکت نے عسکری تربیت اور ریاستی رویے پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ دوسری جانب پاکستان میں کیڈٹس کے تحفظ، بہترین پروٹوکول اور شہدا کے اہل خانہ کی کامل سرپرستی کو اولیت حاصل ہے۔

August 24, 2026

امریکہ کی اقتصادی دھمکی کے بعد چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا اہم دورۂ ایران انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

August 24, 2026

اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں نے نجی ہسپتال سے علاج اور اہل خانہ سے رابطے کی اجازت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا، عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے پیرا وائز کمنٹس طلب کرلیے۔

August 24, 2026

کل کے حریف آج ایک میز پر: پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کی بدلتی سیاست شدید تنقید

ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف سخت ترین بیانات دینے والی پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) آج سیاسی مفادات کے تحت ایک ہی میز پر براجمان ہیں، جس نے اصولوں کی سیاست پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
کل کے حریف آج ایک میز پر: پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کی بدلتی سیاست شدید تنقید

پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کے ماضی کے شدید الزامات اور موجودہ سیاسی نزدیکیوں نے عوامی حلقوں میں اصولوں، مفادات اور بدلتے سیاسی منظرنامے پر بحث چھیڑ دی ہے۔

August 24, 2026

پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے درمیان حالیہ سیاسی رابطوں نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماضی کے سخت سیاسی حریف آج ممکنہ تعاون اور مشترکہ سیاسی حکمتِ عملی کے لیے ایک میز پر بیٹھے دکھائی دے رہے ہیں۔

دونوں جماعتوں کے درمیان ماضی کی سیاسی کشیدگی انتہائی شدید رہی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن کو بارہا ڈیزل کے لقب سے پکارا گیا، جبکہ جے یو آئی ف کی قیادت کی جانب سے عمران خان کو یہودی ایجنٹ قرار دینے جیسے سخت الزامات بھی سامنے آئے۔

یہ محض سیاسی اختلاف تک محدود نہیں رہا بلکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے کی قیادت کی ذات، کردار اور سیاسی نظریات کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ جلسوں، پریس کانفرنسوں اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال ہوتی رہی اور کارکن بھی اسی سیاسی کشمکش کا حصہ بنتے رہے۔

ایک وقت تھا جب پی ٹی آئی کے جلسوں میں ڈیزل کا لقب سیاسی طنز کے طور پر بار بار دہرایا جاتا تھا، جبکہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے عمران خان کے خلاف یہودی ایجنٹ کا الزام اتنا نمایاں ہوا کہ عمران خان نے اس پر قانونی کارروائی کی بات بھی کی تھی۔

لیکن آج سیاسی منظرنامہ یکسر مختلف دکھائی دے رہا ہے۔ وہی قیادتیں جو ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف انتہائی سخت مؤقف رکھتی تھیں، اب سیاسی رابطوں اور ممکنہ اتحاد کے لیے ایک ہی میز پر بیٹھ رہی ہیں۔

یہ تبدیلی سیاسی مفادات اور اصولی سیاست کے درمیان فرق پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔ اگر ماضی کے الزامات اور سخت بیانات سیاسی طور پر درست مؤقف تھے تو آج ان پر وضاحت یا نظرثانی کے بغیر سیاسی تعاون کیسے ممکن ہو رہا ہے؟

عوام کے لیے بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: کل جن رہنماؤں اور جماعتوں کے خلاف کارکنوں کو صف آرا کیا جاتا تھا، آج وہی قیادتیں سیاسی ضرورت کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ رہی ہیں۔

یوں پی ٹی آئی اور جے یو آئی ف کی موجودہ قربت اس بات کو نمایاں کرتی ہیں کہ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھا جا سکتا ہے وہ بھی تب جب ذاتی مفاد وابستہ ہو وگرنہ ریاست اور قوم کے لیے ایسی کوئی مثال ان دونوں جماعتوں کی جانب سے ہمیں نہیں ملتی۔

دیکھیے: مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مفاد کے ساتھ سیاسی قبلہ بدلنے کا الزام

متعلقہ مضامین

وادیٔ تیراہ میں پی ٹی ایم کے ہفتہ وار اجتماعات پر ماہرین نے سوالات اٹھا دیے ہیں، مبینہ غیر ملکی فنڈنگ اور سکیورٹی فورسز کے خلاف بیانیے پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

August 24, 2026

زمینی شکست کے بعد فتنۃ الخوارج کی جانب سے مبالغہ آمیز حملوں اور سکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں کے جعلی دعوؤں کا پردہ چاک ہو گیا ہے۔ حقائق کے مطابق خوارج کے 50 فیصد دعوے جھوٹے اور ناقابلِ تصدیق ہیں۔

August 24, 2026

بنوں میں پولیس امن کمیٹی پر 90 لاکھ روپے کے عوض قاری رشید کے اغوا اور قتل کا الزام، ورثا نے پریس کلب کے باہر احتجاج کیا۔

August 24, 2026

بھارتی عسکری اکیڈمی میں کیڈٹ پرتھم مہالے کی ہلاکت نے عسکری تربیت اور ریاستی رویے پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ دوسری جانب پاکستان میں کیڈٹس کے تحفظ، بہترین پروٹوکول اور شہدا کے اہل خانہ کی کامل سرپرستی کو اولیت حاصل ہے۔

August 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *