سوات سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی اور اس کے بوڑھے والد کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔ واقعے نے خیبر پختونخوا میں شہریوں کے تحفظ، ریاستی رٹ اور قبضہ گروپوں کے خلاف کارروائی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
متاثرہ لڑکی نے دو ہفتے قبل اپنے والد کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کی تھی، جس میں خیبر پختونخوا حکومت سے قبضہ گروپوں کے خلاف انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔
تاہم رپورٹ کے مطابق آج دونوں باپ بیٹی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔ اس واقعے نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں کہ اگر کسی شہری کی جانب سے ممکنہ خطرے کی نشاندہی پہلے ہی کردی گئی تھی تو اسے تحفظ کیوں فراہم نہیں کیا گیا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان اور شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے، اس لیے حکومت کو واضح کرنا ہوگا کہ متاثرہ خاندان کی شکایت پر کیا کارروائی کی گئی اور انہیں تحفظ کیوں نہ مل سکا۔
یہ واقعہ اس بنیادی سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ کیا بااثر مافیا اور قبضہ گروپ ریاستی اداروں سے زیادہ طاقتور ہوچکے ہیں؟ اگر انصاف اور تحفظ کی اپیل کرنے والے شہری ہی محفوظ نہ رہیں تو عام آدمی قانون اور صوبائی حکومت سے مدد کی امید کیسے رکھے؟
متاثرہ خاندان سے حکومتی رابطے، انہیں فوری معاونت فراہم کرنے اور قتل میں ملوث عناصر کے خلاف شفاف کارروائی بھی اب اہم سوال بن چکے ہیں۔
دیکھیے: خیبرپختونخوا میں بنیادی سہولیات کا فقدان، حکومتی ترجیحات سوالیہ نشان