ایران امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے اور جنگ بندی کی بحالی کے لیے پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ دونوں ممالک فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطوں میں مصروف ہیں۔
پاکستان کشیدگی کے خاتمے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے اور فریقین کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے مسلسل رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی سفارتی کاوشیں خطے میں کشیدگی میں کمی اور امن کی بحالی کے لیے کلیدی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔
جنگ بندی کا دعویٰ
اسی دوران روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران نئی جنگ بندی پر اتفاق کر چکے ہیں۔ روسی میڈیا کے مطابق ایران اور پاکستان کے ذرائع نے جنگ بندی کے معاہدے کی تصدیق کی ہے، جس میں آبنائے ہرمز سے آزادانہ بحری آمدورفت کی بحالی بھی شامل ہے۔
دعوے کے مطابق جنگ بندی کا باضابطہ اعلان آئندہ چند روز میں متوقع ہے، جس کے بعد مذاکرات اور تکنیکی سطح کی ملاقاتیں ہوں گی۔ تاہم ایران یا امریکہ کی جانب سے اس دعوے کی تاحال تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔
روزانہ کی بنیاد پر رابطے
قطر کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے رابطے جاری ہیں۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق قطری حکام روزانہ کی بنیاد پر رابطے کر رہے ہیں اور ایران سے بھی براہ راست بات چیت جاری ہے۔ قطر نے واضح کیا ہے کہ بحران سے نکلنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں اور اس کی ترجیح آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر لانا ہے۔
ایران اور عمان کا اتفاق
دوسری جانب ایران اور عمان کے درمیان بھی آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری کے قیام پر اتفاق ہوا ہے۔ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے امید ظاہر کی ہے کہ محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی کے عملی انتظامات کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
یوں ایک طرف پاکستان اور قطر کی ثالثی اور سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے ایران اور عمان کے درمیان پیش رفت سامنے آئی ہے، جبکہ روسی میڈیا کا نئی جنگ بندی پر امریکہ اور ایران کے اتفاق کا دعویٰ بھی سامنے آ گیا ہے۔
دیکھیے: فیلڈ مارشل کا دورۂ ایران مکمل، محسن نقوی کا اہم پیش رفت کا دعویٰ