امریکی محکمہ خارجہ نے داعش خراسان کے سربراہ ثناء اللہ غفاری اور مالیاتی عہدیدار عبید اللہ سے متعلق معلومات کی فراہمی پر 1 کروڑ ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔
اس اقدام سے واضح ہوتا ہے کہ افغانستان میں داعش خراسان کی کمانڈ اور عملی نیٹ ورک اب بھی مکمل طور پر فعال ہے۔ اس سے افغان حکومت کے دوحہ معاہدے پر عملدرآمد کے دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھے ہیں۔
داعش خراسان کے خلاف پاکستان اور امریکا کے باہمی تعاون نے انتہائی اہم نتائج حاصل کیے ہیں۔ پاکستان نے ایبے گیٹ دھماکے کے ملزم شریف اللہ اور تنظیم کے میڈیا چیف سلطان عزیز عزام کو گرفتار کیا تھا۔
میڈیا چیف کی گرفتاری سے داعش خراسان کا پروپیگنڈا نیٹ ورک مفلوج ہو چکا ہے۔ تنظیم کو نیا مواد تیار کرنے اور نوجوانوں کو گمراہ کر کے ساتھ ملانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ ان رہنماؤں کی موجودگی شمالی افغانستان میں ہے۔ اگر یہ عناصر پاکستان میں ہوتے تو انٹیلی جنس اقدامات کے باعث اب تک پکڑے جاتے۔
عالمی رپورٹس کے بعد مغرب افغانستان کو دہشت گردی کا مرکز سمجھ رہا ہے۔ اب افغان حکام پر لازم ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔
دیکھیے: بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمت میں شدت، 10 طالبان ہلاک، 6 زخمی