ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ آئندہ سال شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کا اجلاس پاکستان میں ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان ایک سال کے لیے ایس سی او کی صدارت بھی سنبھالے گا۔ پاکستان کی صدارت تنظیم کے آئندہ اجلاس میں باضابطہ طور پر شروع ہوگی۔
ترجمان کے مطابق وزیراعظم پاکستان ایس سی او سربراہانِ مملکت کانفرنس میں شرکت کے لیے بشکیک جائیں گے۔
سفارتی کوششیں
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی پر طاہر اندرابی نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ ایران پاکستان کی امن کوششوں کا حصہ تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ دورے کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنا تھا۔ ترجمان نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی کی حیثیت سے ایران گئے تھے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور فوجی تعطل ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 14 اگست کو تہران کا دورہ کیا، جہاں علاقائی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کرنے پر بات ہوئی۔
ترکی اور کویت سے رابطے
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے ترک وزیر خارجہ سے 17، 19 اور 25 اگست کو تین مرتبہ ٹیلیفونک گفتگو کی۔
بات چیت میں علاقائی صورتحال، امن اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے اپنے کویتی ہم منصب سے بھی رابطہ کیا ہے۔
طاہر اندرابی نے بتایا کہ اسحاق ڈار اس وقت لندن کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے انٹرنیشنل میری ٹائم سیکیورٹی کے سربراہ اور دولت مشترکہ کی سربراہ سے ملاقاتیں کیں۔
افغانستان سے مذاکرات
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ ریاستی سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم افغان عبوری حکومت کو دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے ٹھوس شواہد دینا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بات چیت کا راستہ بند نہیں کرنا چاہتا، لیکن صرف دعوے کافی نہیں۔ افغان حکام کو عملی اقدامات کے شواہد پیش کرنا ہوں گے۔
پاکستان کا ردعمل
بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے کرانہ ہلز سے متعلق بیان پر طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کے اسٹریٹجک اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے بھارتی حکام کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات کی کوئی اہمیت نہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے اسٹریٹجک اثاثوں کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔