"> باجوڑ ہسپتال میں سہولیات کا فقدان، پی ٹی آئی ناکام
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

باجوڑ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں سہولیات کا فقدان: پی ٹی آئی حکومت کے دعوے کھوکھلے ثابت

باجوڑ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ادویات اور طبی آلات کی کمی نے پی ٹی آئی حکومت کی صحت پالیسی کی ناکامی بے نقاب کر دی، عوام حکومتی بے حسی کا شکار۔
باجوڑ ہسپتال میں سہولیات

باجوڑ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ادویات اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی، پی ٹی آئی حکومت کے صحت اصلاحات کے دعوے زمینی حقائق کے سامنے بے نقاب۔

August 27, 2026

خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بنیادی طبی سہولیات اور ضروری ادویات کا شدید فقدان صوبائی حکومت کی صحت پالیسی کی ناکامی کو بے نقاب کر رہا ہے۔ برسوں سے صحت کے شعبے میں انقلابی اصلاحات کے دعوے کرنے والی پی ٹی آئی حکومت باجوڑ جیسے دور افتادہ ضلع کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں بنیادی ضروریات فراہم کرنے میں بھی ناکام دکھائی دیتی ہے۔

بلند و بانگ دعوے

دور دراز علاقوں سے روزانہ بڑی تعداد میں مریض علاج کی امید لے کر ہسپتال کا رخ کرتے ہیں، مگر انہیں سہولیات کی بجائے مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہسپتال میں ضروری ادویات کی عدم دستیابی، طبی آلات کی کمی اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت نے صحت کے شعبے کو سنجیدگی سے کبھی ترجیح ہی نہیں دی۔

غریب اور دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کے لیے سرکاری ہسپتال میں علاج کی سہولت میسر نہ ہونا اضافی مالی بوجھ کا باعث بن رہا ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو حکومتی نااہلی کی سب سے بھاری قیمت چکا رہا ہے۔

برسوں کی حکمرانی، نتیجہ صفر

باجوڑ ڈی ایچ کیو اسپتال کی زبوں حالی خیبرپختونخوا میں طویل عرصے سے برسرِ اقتدار پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی پر ایک سیاہ داغ ہے۔ صوبے میں ایک دہائی سے زائد عرصے تک اقتدار میں رہنے کے باوجود اگر ایک ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال میں بنیادی ادویات اور آلات تک دستیاب نہیں، تو یہ محض ایک انتظامی خامی نہیں بلکہ حکومتی ترجیحات کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے صحت کے شعبے کے لیے مختص کیے جانے والے وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے بجائے محض اعلانات اور پریس کانفرنسز تک محدود رکھا۔ نتیجتاً عوام کو حقیقی سہولیات کی بجائے صرف نعروں اور وعدوں پر ٹرخایا جاتا رہا۔

باجوڑ کے مختلف علاقوں سے آنے والے مریضوں کے لیے یہ ہسپتال بنیادی طبی سہولت کا واحد بڑا ذریعہ ہے۔ ادویات اور طبی آلات کی کمی کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ بنیادی علاج کے لیے بھی اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔۔ یہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں دور دراز اضلاع کے عوام کہیں شامل ہی نہیں۔

وسائل کہاں گئے؟

باجوڑ ڈی ایچ کیو ہسپتال کی صورتحال نے یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ صحت کے شعبے کے لیے مختص کیے جانے والے کروڑوں روپے کے وسائل آخر کہاں صرف ہو رہے ہیں؟ اگر ایک بڑے ضلعی ہسپتال میں ضروری ادویات، طبی آلات اور بنیادی سہولیات تک دستیاب نہیں، تو یہ حکومتی دعووں کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔

عوام کو محض اعلانات اور فوٹو سیشنز نہیں بلکہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز، ادویات اور بنیادی سہولیات درکار ہیں۔ باجوڑ ڈی ایچ کیو اسپتال کی زبوں حالی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر ایک بھرپور سوالیہ نشان ہے، اور اس بات کا متقاضی ہے کہ حکومت اپنی ناکامیوں کا ازالہ کرے اور فوری، ٹھوس اقدامات اٹھائے۔

دیکھیے: خیبرپختونخوا: 627 سرکاری اسکول بند، تعلیمی نظام کے لیے سنگین چیلنج

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *