خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بنیادی طبی سہولیات اور ضروری ادویات کا شدید فقدان صوبائی حکومت کی صحت پالیسی کی ناکامی کو بے نقاب کر رہا ہے۔ برسوں سے صحت کے شعبے میں انقلابی اصلاحات کے دعوے کرنے والی پی ٹی آئی حکومت باجوڑ جیسے دور افتادہ ضلع کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں بنیادی ضروریات فراہم کرنے میں بھی ناکام دکھائی دیتی ہے۔
بلند و بانگ دعوے
دور دراز علاقوں سے روزانہ بڑی تعداد میں مریض علاج کی امید لے کر ہسپتال کا رخ کرتے ہیں، مگر انہیں سہولیات کی بجائے مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہسپتال میں ضروری ادویات کی عدم دستیابی، طبی آلات کی کمی اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت نے صحت کے شعبے کو سنجیدگی سے کبھی ترجیح ہی نہیں دی۔
غریب اور دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کے لیے سرکاری ہسپتال میں علاج کی سہولت میسر نہ ہونا اضافی مالی بوجھ کا باعث بن رہا ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو حکومتی نااہلی کی سب سے بھاری قیمت چکا رہا ہے۔
برسوں کی حکمرانی، نتیجہ صفر
باجوڑ ڈی ایچ کیو اسپتال کی زبوں حالی خیبرپختونخوا میں طویل عرصے سے برسرِ اقتدار پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی پر ایک سیاہ داغ ہے۔ صوبے میں ایک دہائی سے زائد عرصے تک اقتدار میں رہنے کے باوجود اگر ایک ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال میں بنیادی ادویات اور آلات تک دستیاب نہیں، تو یہ محض ایک انتظامی خامی نہیں بلکہ حکومتی ترجیحات کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے صحت کے شعبے کے لیے مختص کیے جانے والے وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے بجائے محض اعلانات اور پریس کانفرنسز تک محدود رکھا۔ نتیجتاً عوام کو حقیقی سہولیات کی بجائے صرف نعروں اور وعدوں پر ٹرخایا جاتا رہا۔
باجوڑ کے مختلف علاقوں سے آنے والے مریضوں کے لیے یہ ہسپتال بنیادی طبی سہولت کا واحد بڑا ذریعہ ہے۔ ادویات اور طبی آلات کی کمی کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ بنیادی علاج کے لیے بھی اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔۔ یہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں دور دراز اضلاع کے عوام کہیں شامل ہی نہیں۔
وسائل کہاں گئے؟
باجوڑ ڈی ایچ کیو ہسپتال کی صورتحال نے یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ صحت کے شعبے کے لیے مختص کیے جانے والے کروڑوں روپے کے وسائل آخر کہاں صرف ہو رہے ہیں؟ اگر ایک بڑے ضلعی ہسپتال میں ضروری ادویات، طبی آلات اور بنیادی سہولیات تک دستیاب نہیں، تو یہ حکومتی دعووں کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔
عوام کو محض اعلانات اور فوٹو سیشنز نہیں بلکہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز، ادویات اور بنیادی سہولیات درکار ہیں۔ باجوڑ ڈی ایچ کیو اسپتال کی زبوں حالی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر ایک بھرپور سوالیہ نشان ہے، اور اس بات کا متقاضی ہے کہ حکومت اپنی ناکامیوں کا ازالہ کرے اور فوری، ٹھوس اقدامات اٹھائے۔
دیکھیے: خیبرپختونخوا: 627 سرکاری اسکول بند، تعلیمی نظام کے لیے سنگین چیلنج