افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے مطابق 180 سے زائد افغان علماء نے طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کی حمایت میں فتویٰ جاری کیا ہے۔
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے مطابق فتویٰ میں طالبان حکومت کو ظلم و جبر پر مبنی قرار دیتے ہوئے افغانستان کی آزادی کو مذہبی فریضہ قرار دیا گیا ہے۔
علماء کے مطابق اسلام ظلم، ناانصافی اور جبر کی حمایت نہیں کرتا۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کے حقوق پامال ہونے کی صورت میں انہیں اپنے دفاع اور مزاحمت کا حق حاصل ہے۔
طالبان حکمرانی پر اعتراضات
اے یو ایف کے مطابق افغان علماء نے طالبان پر اسلام اور مذہبی اصولوں کو اپنے اقتدار کے جواز کے لیے مسخ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
فتویٰ میں طالبان کے موجودہ اقتدار کو آمرانہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طالبان اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ خواتین کی قید، بچوں پر تشدد اور املاک پر قبضے کو بھی شریعت کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔
فتویٰ میں طالبان کے سربراہ مولانا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی پالیسیوں کو قرآن اور اسلامی اصولوں سے متصادم قرار دینے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
علماء کے مطابق شیخ ہیبت اللہ اور ان کا قریبی حلقہ مذہبی احکامات کے بجائے ذاتی مفادات کے مطابق فیصلے کر رہا ہے۔ طالبان کی تعبیرِ شریعت کو فتویٰ میں اسلام کی مسخ شدہ شکل اور جبر کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
اے یو ایف کے مطابق علما نے طالبان حکومت کو ہزاروں نوجوانوں کی ہلاکت اور متعدد خاندانوں کی تباہی کا ذمہ دار بھی قرار دیا ہے۔
قیادت چھوڑنے کامطالبہ
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے مطابق علما نے طالبان اہلکاروں سے قیادت کا ساتھ چھوڑ کر افغان عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کی اپیل کی ہے۔
علماء نے جنرل سمیع سادات کی قیادت میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی حمایت کرتے ہوئے افغان عوام سے بھی اس کی مزاحمت کا ساتھ دینے کی اپیل کی ہے۔
اے یو ایف نے فتویٰ کا خیرمقدم کرتے ہوئے طالبان حکومت کے خاتمے اور افغانستان کی خودمختاری کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
طالبان کو چیلنج
یہ پیش رفت طالبان حکومت کے لیے سیاسی اور عسکری چیلنج کے ساتھ اس کے مذہبی بیانیے کے لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
طالبان اپنی حکمرانی اور تعبیرِ شریعت کو مذہبی جواز فراہم کرتے ہیں، جبکہ اے یو ایف کے مطابق 180 سے زائد علما کی جانب سے اسی نظام کو ظلم، جبر اور اسلامی اصولوں سے انحراف قرار دینا طالبان کے سیاسی اور نظریاتی جواز کو چیلنج کرتا ہے۔
دیکھیے: افغانستان: طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں شدت، فیض آباد حملے میں 3 اہلکار ہلاک