افغانستان پر طالبان کے قبضے کے 5 سال بعد بھی آسٹریلیا اور کینیڈا نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ دونوں ممالک نے وہاں سیاسی بہتری کے بجائے جبر، ناانصافی اور بنیادی آزادیوں کی مسلسل پامالی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بیانات میں افغان خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار، سفر اور عوامی زندگی پر عائد پابندیوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ کینیڈا کا کہنا ہے کہ صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور اقلیتوں کو دبایا جا رہا ہے، جبکہ ملک میں شمولیت پسند حکومت کے بجائے محض مسلح قیادت کا غلبہ ہے۔
کینیڈا اور آسٹریلیا نے واضح کیا ہے کہ جب تک انسانی حقوق اور آزادیوں کا تحفظ نہیں ہوتا، سفارتی تعلقات بحال نہیں ہو سکتے۔ آسٹریلیا نے طالبان رہنماؤں پر سفری و مالی پابندیاں برقرار رکھی ہیں۔
حکام کے مطابق افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی بھی عالمی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر 5 سال گزرنے کے باوجود طالبان حکومت کو عالمی سطح پر سیاسی قبولیت حاصل نہیں ہو سکی ہے۔
دیکھیے: افغان خواتین پر طالبان کا جبر: کابل کے قید خانوں کی دردناک داستان