آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہوئی جس میں بیرسٹر افتخار گیلانی کامیاب قرار پائے اور مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر میں اپنی حکومت مستحکم کر لی۔

August 28, 2026

سانحہ پمز پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی منظوری، ذمہ داروں کے تعین اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ۔

August 28, 2026

کان کنی کے لیے بدخشاں جانے والے دو نوجوانوں کو طالبان فورسز نے مبینہ طور پر قتل کیا اور ان کی لاشیں عوامی مقامات پر نمائش کے لیے رکھ دیں۔ مقتولین کا کسی مزاحمتی گروپ سے تعلق نہیں تھا۔

August 28, 2026

پاکستانی کارروائیوں کے بعد طالبان کی امریکہ اور بھارت سے مدد لینے کی کوشش کا دعویٰ، کابل کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھ گئے۔

August 28, 2026

مکہ دفاعی معاہدے میں بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت کی بات سامنے آگئی، جبکہ پاکستان اور کویت کے درمیان بھی دفاعی تعاون کا نیا معاہدہ طے پا گیا۔

August 28, 2026

نیپال میں تباہ کن سیلابی ریلے نے آبادیوں، سڑکوں اور پلوں کو شدید نقصان پہنچایا، 500 سے زائد افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں لاپتہ ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

August 28, 2026

سندھ پولیس کی گاڑیوں پر کالعدم تنظیم کا پرچم: سندھ حکومت شدید تنقید کی زد میں

سندھ پولیس کی گاڑی کا کالعدم تنظیم کے زیرِ استعمال ہونا اور ریاست مخالف پرچم لہرانا سندھ حکومت کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔
سندھ پولیس کی گاڑیوں پر کالعدم تنظیم کا پرچم: سندھ حکومت شدید تنقید کی زد میں

سندھ پولیس کی گاڑی کے کالعدم تنظیم کے استعمال اور ریاست مخالف پرچم لہرانے کے واقعے پر سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کے کردار پر سوالات۔

August 28, 2026

سندھ حکومت کی مشکوک سرگرمیوں پر ایک بار پھر وہ سوالات ثبت ہو چکے ہیں جن کا جواب دیے بغیر کوئی بھی ذمہ دار حکومت آگے نہیں بڑھ سکتی۔ سوشل میڈیا سے لے کر عوامی حلقوں تک ہر طرف یہ المناک مناظر دیکھے جا رہے ہیں کہ جن سرکاری گاڑیوں کا کام قانون کی حاکمیت اور شہریوں کی حفاظت تھا، وہی سندھ پولیس کی گاڑیاں کالعدم تنظیم سندھو دیش کے شرپسندوں کے زیرِ استعمال ہیں اور ان پر ریاست مخالف پرچم لہرائے جا رہے ہیں۔ اس پر مزیغ یہ کہ آزادی اسٹالز پر مسلح حملوں اور گنڈا گردی میں بھی رپورٹس کے مطابق انہی کالعدم عناصر کی باقاعدہ شمولیت سامنے آئی ہے۔ یہ محض امن و امان کی بگاڑ کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ سیدھا سادا ریاستی حاکمیت پر حملہ اور حکمران ٹولے کی مجرمانہ سہولت کاری کا کھلا ثبوت ہے۔

سندھ کی صوبائی حکومت پچھلی ڈیڑھ دہائی سے بھی زائد عرصے سے صوبہ سندھ پر بلا شرکتِ غیرے حکمرانی کر رہی ہے، لیکن اس طویل اقتدار نے سندھ کے عوامی مقدر کو کیا دیا؟ ہسپتال زبوں حالی کا شکار، تعلیمی ادارے مفلوج، انفراسٹرکچر برباد اور عام شہری بنیادی سہولیات اور روزگار سے محروم ہیں۔ وہ پارٹی جو سندھ میں عوامی فلاح کے بجائے انتظامی بربادی اور مظلومیت کا بیانیہ بیچنے کی عادت میں مبتلا ہے، وہ اب ملک بھر میں سیاسی و سماجی انتشار کو ہوا دینے والی اہم قوت بن کر ابھر رہی ہے۔

جب اپنی انتظامی نالائقی اور معاشی تباہی کو چھپانا ہو تو ملک دشمن یا لسانی عناصر سے چشم پوشی کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے، اور جب عوام، تجزیہ کار یا اعلیٰ حکام صوبے کے انتظامی زوال کا حل نکالنے، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی یا نئے صوبوں کے قیام کی آئینی بات کریں تو اچانک یہی حکمرانسندھ دھرتی کے رکھوالے بن کر سامنے آ جاتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سندھ کی رکھوالی کا مطلب یہ ہے کہ کالعدم اور ملک دشمن تنظیموں کو پولیس کی سرکاری گاڑیاں تحفے میں دی جائیں؟ کیا رکھوالی کا مطلب یہ ہے کہ آزادی اسٹالز پر مسلح حملے کرنے والے دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دی جائے؟ پیپلز پارٹی کے اس دہرے اور خطرناک معیار نے ثابت کر دیا ہے کہ سیاسی تحفظ اور اقتدار کی بقا کے لیے یہ حکومت کسی بھی حد تک جا سکتی ہے، خواہ اس کی قیمت ریاستی اداروں کی تذلیل اور ملک کی سلامتی کی صورت میں ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔

وفاقی حکومت، اعلیٰ عدلیہ اور عسکری اداروں کو اس سنگین بے حسی اور مجرمانہ چشم پوشی کا فوری نوٹس لینا ہوگا۔ سندھ پولیس کے اندر موجود ان عناصر اور سیاسی سرپرستوں کا بلاامتیاز احتساب ضروری ہے جو ریاست مخالف شرپسندوں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ اگر آج اس کھلی ریاستی بے توقیری پر سخت اور فوری ایکشن نہ لیا گیا تو یہ سیاسی انتشار اور کالعدم عناصر کی سرپرستی پورے ملک کے لیے ایک نا قابلِ تلافی ناسور بن جائے گی۔

متعلقہ مضامین

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہوئی جس میں بیرسٹر افتخار گیلانی کامیاب قرار پائے اور مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر میں اپنی حکومت مستحکم کر لی۔

August 28, 2026

سانحہ پمز پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی منظوری، ذمہ داروں کے تعین اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ۔

August 28, 2026

کان کنی کے لیے بدخشاں جانے والے دو نوجوانوں کو طالبان فورسز نے مبینہ طور پر قتل کیا اور ان کی لاشیں عوامی مقامات پر نمائش کے لیے رکھ دیں۔ مقتولین کا کسی مزاحمتی گروپ سے تعلق نہیں تھا۔

August 28, 2026

پاکستانی کارروائیوں کے بعد طالبان کی امریکہ اور بھارت سے مدد لینے کی کوشش کا دعویٰ، کابل کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھ گئے۔

August 28, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *