زیارت کراس کے مقام پر پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کے حوالے سے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے درمیان مبینہ تعاون کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
ایک ذریعے کے مطابق حملہ ٹی ٹی پی نے کیا، تاہم بی ایل اے نے اس کی ذمہ داری قبول کی۔ دعوے کے مطابق اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ٹی ٹی اے، اے ٹی آر، ٹی ٹی پی کو حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے روکنا چاہتا ہے۔
اس ذریعے کا کہنا ہے کہ اس طرح پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے خلاف ممکنہ سخت ردعمل کے خدشات کم کیے جاسکتے ہیں۔
ٹی ٹی پی اور بی ایل اے
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے درمیان مختلف سطحوں پر رابطے اور تعاون موجود ہیں۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں تنظیموں کے ہینڈلرز میں بھی روابط ہیں۔ اس کے علاوہ حملوں کی منصوبہ بندی اور آپریشنل معاملات میں تعاون کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔
مزید یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ بی ایل اے، ٹی ٹی پی کو بعض حملوں کے لیے ٹھکانے، لاجسٹک سہولت اور معلومات فراہم کرتی ہے۔