"> زیارت میں شہدا کی بے حرمتی

زیارت میں شہدا کی بے حرمتی، دہشتگردوں کا سفاک چہرہ بے نقاب

زیارت واقعے میں 8 ایف سی جوانوں کی شہادت اور شہدا کی میتوں کی بے حرمتی نے دہشتگردوں کی سفاکیت کو بے نقاب کردیا۔
زیارت میں شہدا کی بے حرمتی

زیارت میں 8 ایف سی جوان شہید، شہدا کی میتوں کی بے حرمتی پر دہشتگردوں کی سفاکیت کی شدید مذمت۔

September 4, 2026

اسلام نے جہاں زندگی کے ہر شعبے میں ہدایت فراہم کی ہے، وہیں حالتِ جنگ میں بھی انسانی شرف اور اخلاقی حدود کا ایک کامل نظام قائم کیا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح حکم ہے کہ دورانِ جنگ بھی لاشوں کی بے حرمتی (مثلہ) نہ کی جائے اور عورتوں، بچوں یا بزرگوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

یہ زریں اصول محض جنگی احکامات نہیں بلکہ اخلاق پر مبنی وہ اصول ہے جو ایک تہذیب یافتہ معاشرے کو درندگی اور سفاکیت سے الگ کرتے ہیں۔ جب کوئی گروہ یا تحریک ان حدود کو پامال کرتی ہے تو وہ اپنے تمام نظریاتی اور اخلاقی دعوؤں کا بھرم خود اپنے ہاتھوں سے مسمار کر دیتی ہے۔

بلوچستان کے ضلع زیارت میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ اسی اخلاقی دیوالیہ پن اور سفاکیت کا ایک المناک مظہر ہے۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان کے آلہِ کار عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے فرنٹیر کور (ایف سی) کے 8 بہادر جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جبکہ فورسز کی جوابی اور مؤثر کارروائی میں 11 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ان شہدا نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ثابت کیا کہ ملک و قوم کے تحفظ کی خاطر ہمارے سکیورٹی ادارے ہر وقت اور ہر محاذ پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے ہیں۔

تاہم اس واقعے کا سب سے تشویشناک اور قابلِ مذمت پہلو دہشت گردوں کی جانب سے شہید اہلکاروں کی میتوں کی بے حرمتی اور انہیں آتشزدہ کرنے کی اطلاعات ہیں۔ یہ عمل نہ صرف اسلامی تعلیمات اور نصِ قاطع کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ انسانیت اور جنگی اصولوں کے منہ پر بھی ایک زبردست طمانچہ ہے۔

کسی بھی خطے، مذہب یا تہذیب میں دشمن کی میت کی بے حرمتی کو جائز نہیں سمجھا گیا۔ عسکریت پسندوں کا یہ عمل ان کی کسی عسکری قوت یا فتح کا مظہر نہیں، بلکہ ان کی بوکھلاہٹ، اندرونی شکست اور انتہائی درجے کے اخلاقی زوال کا ننگا ثبوت ہے۔

جو عناصر مذہب یا حقوق کا نام لے کر تشدد اور عسکریت پسندی کی راہ اختیار کرتے ہیں، ان کا یہ طرزِ عمل ان کے اپنے بیانیے کو باطل ثابت کرتا ہے۔ لاشوں کو جلانا اور بے حرمتی کرنا بنیادی طور پر عوام اور ریاست کے اندر خوف و ہراس کی فضا قائم کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ جب عسکری اور اخلاقی محاذ پر ناکامی کا سامنا ہوتا ہے تو دہشت گرد تنظیمیں سنسنی خیزی اور ہیبت پیدا کرنے کے لیے اس قسم کے غیراخلاقی اور بزدلانہ اقدامات کا سہارا لیتی ہیں۔

یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ چند عسکریت پسندوں کی اس درندگی کو نہ تو اسلام سے جوڑا جا سکتا ہے اور نہ ہی بلوچ قوم کی اعلیٰ روایات سے۔ بلوچستان کے عام شہری، تاجر، طلبہ اور خواتین خود اس دہشت گردی اور عدم استحکام سے برابر متاثر ہوئے ہیں۔ ان شہدا کی قربانیاں صرف اعداد و شمار کا حصہ نہیں ہیں، بلکہ ان کے پیچھے سوگوار خاندانوں کی امیدیں اور خواب وابستہ ہیں۔ ان عظیم قربانیوں کا احترام اور پاسداری ریاست اور قوم دونوں پر فرض ہے۔

اس صورتحال میں ضروری ہے کہ ریاست اور عوام مل کر ان عناصر اور ان کے نظریاتی پشت پناہوں کا یک زبان ہو کر مقابلہ کریں۔ محض سیاسی یا انتظامی بیانات کے بجائے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی رفتار تیز کی جائے اور معلومات کے محاذ پر بھی دہشت گردوں کے گمراہ کن بیانیے کا کاٹ دار جواب دیا جائے۔ شہدا کے لہو کا تقاضا ہے کہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی قائم رہے اور دہشت گردی کے خلاف یہ جدوجہد بلا تفریق اور کامل عزم کے ساتھ جاری رکھی جائے۔

دیکھیے: زیارت کراس میں اسسٹنٹ کمشنر کے اسکواڈ پر حملہ، 11 دہشتگرد ہلاک

متعلقہ مضامین

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فائرنگ کے تبادلے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے، نیتن یاہو نے حملہ آوروں کا محلہ تباہ کرنے کی دھمکی دے دی۔

October 23, 2026

وزارتِ عظمیٰ نہ ملنے پر راجہ فاروق حیدر نے نظام اور اسلام آباد کے خلاف بیانات دینا شروع کر دیے، جو اصول پرستی کے بجائے سیاسی ناکامی کا عکس ہیں۔

October 23, 2026

راولپنڈی میں گولڑہ موڑ کے قریب سی این جی اسٹیشن پر دھماکے سے ایک شخص جاں بحق اور 3 افراد زخمی ہوگئے۔

October 23, 2026

گوادر میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کی کوششیں ناکام بنا دیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایک بلوچ خاتون سمیت 10 حملہ آور ہلاک اور ایک شہری شہید ہوا۔

October 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *