لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

پی ایم ڈی سی کی ہدایت قومی امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے، امتیازی سلوک نہیں: ماہرین

پی ایم ڈی سی کی ہدایت کو قومی امیگریشن پالیسی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد غیر ملکی طلبہ کی قانونی حیثیت یقینی بنانا ہے۔
غیر ملکی طلبہ اور پی ایم ڈی سی ہدایات

پی ایم ڈی سی کے مطابق غیر ملکی طلبہ کے لیے قانونی امیگریشن پالیسی پر عمل لازمی ہے۔ یہ فیصلہ کسی امتیازی سلوک پر مبنی نہیں ہے۔

September 9, 2026

اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی حالیہ ہدایت کو قومی امیگریشن پالیسی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق غیر ملکی طلبہ کے داخلوں اور ویزوں پر قواعد کا اطلاق امتیازی سلوک نہیں ہے۔ اس کے بعد یہ بات واضح کی گئی ہے کہ ریاست کو اپنی سلامتی اور بارڈر پالیسی نافذ کرنے کا پورا اختیار ہے۔

قومی سلامتی کے تحت حکومتیں ایسے اقدامات کرتی رہتی ہیں۔ اس لیے اس فیصلے کو تنہا ادارے کا اقدام نہیں کہا جا سکتا۔

دنیا بھر میں ریاستیں غیر ملکی شہریوں کے لیے پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں۔ سنہ 2017 کے خلیجی بحران میں قطری طلبہ اس سے متاثر ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ یورپی ممالک نے بھی روسی شہریوں پر پابندیاں لگائیں۔

تاہم یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ تعلیم کا حق امیگریشن قوانین سے مشروط ہوتا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی ریاست غیر مشروط اجازت نہیں دیتی۔

قانونی حیثیت بنیادی شرط

اس معاملے کا اصل محور کسی کی قومیت نہیں بلکہ قانونی دستاویزات ہیں۔ پاکستان میں زیرِ تعلیم غیر ملکی طلبہ کے پاس درست ویزا ہونا لازمی ہے۔ اس کے بعد کوئی بھی غیر قانونی شہری محض داخلے کی بنیاد پر حق کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

تعلیمی ادارے ملکی قوانین سے بالاتر ہو کر کام نہیں کر سکتے۔ چنانچہ پیشہ ورانہ ڈگری کے لیے بھی قانونی رہائش ضروری ہے۔

انسانی ہمدردی اور قانون کا توازن

جو طلبہ پہلے سے پڑھ رہے ہیں، ان کے لیے عبوری اقدامات ممکن ہیں۔ لیکن ایسے اقدامات کو امیگریشن قوانین سے مکمل استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے ہر معاملہ قانون کے دائرے میں رہ کر ہی حل ہوگا۔

نگران ادارہ وفاقی حکومت کی وضع کردہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ لہٰذا پی ایم ڈی سی کو تنقید کا تنہا ہدف بنانا درست نہیں۔

پاکستان کو اپنی سرحدوں اور ویزا پالیسی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا خود مختار حق ہے۔ اس دوران قانونی دستاویزات رکھنے والے افراد کی تعلیم پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی۔

چنانچہ درست ویزا رکھنے والے غیر ملکی طلبہ بغیر کسی رکاوٹ کے تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد ملک میں صرف قانونی امیگریشن کو یقینی بنانا ہے۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *