لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے ان کے امتحانی پرچے منسوخ نہ کرنے کی بھی ہدایت کردی۔
افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا گیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے اور ان کے امتحانی پرچے منسوخ کرنے سے روک دیا۔

September 11, 2026

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے میڈیکل کالجز کو افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم 30 سے زائد افغان طلبہ کی درخواستوں پر سماعت کے دوران دیا۔

جسٹس خالد اسحاق نے درخواستوں کی سماعت کی۔ اس دوران پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض طلبہ کے پاس مطلوبہ دستاویزات نہیں۔

وکیل نے کہا کہ درست ویزے کے بغیر کسی شخص کو قیام کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

جسٹس خالد اسحاق نے سوال کیا کہ اگر طلبہ کو میڈیکل کالجز میں داخلہ دیا گیا تھا تو انہیں تعلیمی ویزے کیسے جاری ہوئے؟

عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ چار سال تعلیم کے بعد طلبہ کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیسے کیا گیا۔ جسٹس خالد اسحاق نے کہا کہ کسی بھی کارروائی سے پہلے طلبہ کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

پی ایم اینڈ ڈی سی کے وکیل نے معاملے کو ریاستی سلامتی سے جوڑا۔ انہوں نے امریکا میں ویزا قوانین کی مثال بھی دی۔

تاہم، عدالت نے ریاستی سلامتی کے اس مؤقف کو مسترد کردیا۔ جسٹس خالد اسحاق نے کہا کہ افغان طلبہ میڈیکل تعلیم مکمل کرنے کے بعد واپس بھیجے جا سکتے ہیں۔ تاہم، موجودہ معاملے میں ریاستی سلامتی کا مسئلہ نہیں۔

طلبہ کو بے دخل نہ کرنے کی ہدایت

عدالت نے پنجاب کے میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے ان کے امتحانی پرچے منسوخ نہ کرنے کی بھی ہدایت کی۔

لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کردی۔ یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی ہے جب پی ایم اینڈ ڈی سی نے افغان طلبہ سے متعلق اپنا مؤقف واضح کیا تھا۔

پی ایم اینڈ ڈی سی کا مؤقف

پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق پاکستان میں میڈیکل تعلیم پر قومیت کی بنیاد پر کوئی پابندی نہیں۔ کونسل کے مطابق افغان طلبہ کا جائزہ قواعد اور دستاویزات کی بنیاد پر لیا جا رہا ہے۔

کونسل نے کہا کہ غیر ملکی طلبہ کو تعلیم کے لیے مقررہ شرائط پوری کرنا ہوتی ہیں۔ ان میں تعلیمی، رجسٹریشن، دستاویزی اور امیگریشن تقاضے شامل ہیں۔

پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق پاکستان میں 200 سے زائد افغان طلبہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ تاہم، ان میں سے صرف 22 طلبہ اس وقت کونسل کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔

کونسل نے مزید واضح کیا کہ میڈیکل ڈگری سے پاکستان میں ملازمت یا پریکٹس کا حق نہیں ملتا۔ اس کے لیے متعلقہ لائسنس اور رجسٹریشن ضروری ہے۔

پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق جو طلبہ کونسل کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں اور مطلوبہ اجازت نامہ بھی نہیں رکھتے، انہیں باقاعدہ میڈیکل نظام میں قانونی طور پر رجسٹرڈ غیر ملکی طلبہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

دیکھیے: کابل سے ایم بی بی ایس کرنے والا نوجوان دہشت گرد نکلا، کرم میں جھڑپ کے دوران ہلاک

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *