جنگِ ستمبر 1965 کے ہیرو میجر عزیز بھٹی شہید نشانِ حیدر کا 61واں یومِ شہادت آج منایا جا رہا ہے۔ انہوں نے 12 ستمبر 1965 کو لاہور کے محاذ پر دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
مسلح افواجِ پاکستان کے سربراہان نے میجر عزیز بھٹی شہید کی غیر معمولی جرات، قیادت اور عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
میجر عزیز بھٹی شہید نے جنگِ ستمبر کے دوران پانچ دن اور پانچ راتیں دشمن کے حملوں کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے برکی سیکٹر کا دفاع کرتے ہوئے دشمن کی پیش قدمی روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔
دشمن کو بکتر بند گاڑیوں اور بھاری توپ خانے کی مدد حاصل تھی۔ اس کے باوجود میجر عزیز بھٹی شہید نے دفاع کے ساتھ دشمن پر جوابی حملے بھی کیے۔
انہوں نے بی آر بی نہر عبور کرنے والے واحد پل پر قابض دشمن کو پیچھے دھکیل دیا۔ 12 ستمبر کو دشمن کے بکتر بند اور پیدل دستوں نے پیش قدمی کی تو میجر عزیز بھٹی شہید نے ان پر حملہ کیا۔ کارروائی میں دشمن کے دو ٹینک تباہ ہوئے۔
دشمن کے ٹینک کا گولہ لگا
میجر عزیز بھٹی شہید نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر دشمن کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی۔ انہوں نے دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔
اسی دوران دشمن کے ایک ٹینک کا گولہ انہیں لگا۔ میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نے 12 ستمبر 1965 کو جامِ شہادت نوش کیا۔
ان کی بے مثال جرات اور قربانی کے اعتراف میں انہیں پاکستان کے اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔ میجر عزیز بھٹی شہید آج بھی دفاعِ وطن اور قربانی کی علامت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔
دیکھیے: جنگ ستمبر کا گیارہواں روز: پاک فوج کے حملے، بھارت کو ہر محاذ پر بڑا نقصان