لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

پانچ افغان صوبوں میں مزاحمت تیز، طالبان رجیم پر دباؤ بڑھ گیا

افغانستان کے پانچ صوبوں میں تین دن کے دوران طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی آگئی۔
پانچ افغان صوبوں میں مزاحمتی کارروائیاں تیز

کپیسہ، ہلمند، زابل، بدخشان اور ہرات میں طالبان کے خلاف مزاحمتی کارروائیاں تیز ہوگئیں، شہری علاقوں میں سیاسی و مذہبی پیغامات بھی پہنچائے گئے۔

September 12, 2026

افغانستان کے پانچ صوبوں میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی آگئی ہے۔ کپیسہ، ہلمند، زابل، بدخشان اور ہرات میں تین دن کے دوران طالبان اہلکاروں اور چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔

مزاحمتی گروہوں کے مطابق مختلف کارروائیوں میں طالبان کے متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اس دوران ہرات شہر میں سیاسی اور مذہبی پیغامات بھی تقسیم کیے گئے۔

نو ستمبر کو افغان فریڈم فرنٹ نے کپیسہ کے ضلع تگاب میں طالبان کی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ یہ چیک پوسٹ سابق افغان فوجی اڈے پر قائم کی گئی تھی۔ افغان فریڈم فرنٹ کے مطابق کارروائی میں 3 طالبان اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔

گیارہ ستمبر کو افغان یونٹی فرنٹ نے ہلمند کے لشکرگاہ میں کارروائی کی۔ تنظیم کے مطابق اس میں 2 طالبان اہلکار ہلاک ہوئے۔

اسی روز زابل میں بھی افغان فریڈم فرنٹ نے 205 کور کی تیسری بریگیڈ سے وابستہ ایک طالبان اہلکار کو نشانہ بنایا۔ تنظیم نے اس کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔

بدخشاں میں 40 منٹ جھڑپ

10 ستمبر کو نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے بدخشاں کے یفتل پایان میں طالبان کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ این آر ایف کے مطابق جھڑپ تقریباً 40 منٹ جاری رہی اور اس دوران 3 طالبان اہلکار زخمی ہوئے۔

یوں تین دن کے دوران افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان کے سکیورٹی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنایا گیا۔

مزاحمت کی سرگرمیاں صرف مسلح کارروائیوں تک محدود نہیں رہیں۔ 11 ستمبر کو ہرات شہر کے 28 مقامات پر افغان فریڈم فرنٹ کی جانب سے قیادت کے پیغامات اور مذہبی علما کے فتوے تقسیم کیے گئے۔

ان مقامات میں لالہ مارکیٹ، قلعہ اختیارالدین، مصطفیٰ چوک، باغِ ملت اور چہار باغ شامل تھے۔ یہ سرگرمی طالبان رجیم کے خلاف سیاسی اور مذہبی پیغام کو شہری علاقوں تک پہنچانے کی کوشش ظاہر کرتی ہے۔

طالبان کے استحکام کے دعوے

پانچ صوبوں میں مختصر عرصے کے دوران ہونے والی کارروائیاں طالبان رجیم کے لیے ایک مسلسل چیلنج کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزاحمتی گروہوں نے سکیورٹی اہلکاروں، چیک پوسٹوں اور عسکری عناصر کو مختلف مقامات پر نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب شہری مراکز میں متبادل سیاسی اور مذہبی پیغام بھی پہنچایا جا رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان مخالف سرگرمیاں صرف ایک علاقے تک محدود نہیں رہیں۔

مزاحمتی گروہوں نے طالبان رجیم کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ مختلف صوبوں میں سرگرمیوں کا پھیلاؤ طالبان کے افغانستان میں مکمل اور غیر متنازع کنٹرول کے دعوے کو چیلنج کرتا ہے۔

دیکھیے: افغانستان: 4 روز میں 6 صوبوں پر حملے، طالبان کے خلاف مسلح کارروائیاں تیز

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *