افغانستان میں مسلح مزاحمت کے دائرہ کار میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ محض چار روز کے مختصر عرصے میں ملک کے چھ مختلف صوبوں میں کارروائیاں رپورٹ ہوئی ہیں۔
ان حملوں میں قندھار، خوست، غزنی، کنڑ، کاپیسا اور بدخشاں کو نشانہ بنایا گیا۔ کیونکہ مخالف مزاحمتی گروہوں نے طالبان کی فوجی تنصیبات اور انٹیلی جنس نیٹ ورک پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔
اس لیے طالبان حکومت کے داخلی سیکیورٹی نظام پر غیر معمولی دباؤ واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ ان کارروائیوں میں پولیس، امر بالمعروف حکام اور چیک پوسٹوں کو خاص طور پر ہدف بنایا گیا۔
کاپیسا حملہ
تازہ ترین حملہ صوبہ کاپیسا کے ضلع تگاب میں نو ستمبر کی شب پیش آیا۔ افغانستان فریڈم فرنٹ کے جنگجوؤں نے سابق نیشنل آرمی کے اڈے پر قائم طالبان کی چوکی پر دھاوا بولا۔ اگرچہ طالبان سیکیورٹی فورسز نے جوابی فائرنگ کا دعویٰ کیا ہے۔
لیکن حملے کے نتیجے میں 3 طالبان اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے۔ علاوہ ازیں عسکری تنصیبات کے ساتھ ساتھ طالبان کے نفاذِ شریعت اور اخلاقی پولیس کے اہلکار بھی زد میں آئے ہیں۔
جنوبی صوبوں قندھار اور غزنی سے لے کر مشرقی و شمالی علاقوں تک پھیلے ہوئے یہ حملے نئی حکمتِ عملی کو ظاہر کرتے ہیں۔
کیونکہ وسیع جغرافیائی رقبے پر پھیلی کارروائیاں ثابت کرتی ہیں کہ مزاحمت اب کسی ایک وادی تک محدود نہیں رہی۔ اس لیے دارالحکومت سمیت صوبائی مراکز میں مکمل سیکیورٹی بحالی کے سرکاری دعووں پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔
انٹیلی جنس اہلکاروں کا مسلسل نشانہ بننا طالبان کی زمینی نگرانی اور معلوماتی نیٹ ورک کی خامیوں کو بے نقاب کر رہا ہے۔ تاہم سخت فوجی نگرانی اور تلاشی مہم کے باوجود گوریلا طرز کی ان کارروائیوں کا تسلسل برقرار ہے۔
دیکھیے: افغانستان میں مسلح مزاحمت تیز: 5 صوبوں میں طالبان فورسز اور چوکیوں پر حملے