اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان سے دہشتگردی کے خطرے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ فرانسیسی نمائندے جیروم بونافون نے کہا ہے کہ داعش خراسان کا نیٹ ورک اب بھی خطے کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔
فرانس کے مستقل نمائندے نے تنظیم کو داعش کی سب سے خطرناک شاخ قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گروہ سرحد پار حملوں کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
مارچ 2024 کا کروکس سٹی ہال حملہ اس خطرے کا واضح ثبوت ہے۔ اس حملے سے ثابت ہوا کہ دہشتگرد نیٹ ورکس دور دراز ممالک تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
کابل کے دعوے اور زمینی حقائق
کابل انتظامیہ داعش خراسان کے خلاف مسلسل کارروائیوں کے دعوے کرتی ہے۔ تاہم عالمی برادری کے خدشات بدستور برقرار ہیں۔
پاکستان نے داعش کے خلاف مسلسل مؤثر انسدادِ دہشتگردی کارروائیاں کی ہیں۔ اس کے باوجود افغانستان میں اس گروہ کی موجودگی نے کابل حکومت کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
میڈیا سیل اور پراپیگنڈا نیٹ ورک
پاکستانی فورسز نے سلطان عزیز اعظم کو گرفتار کر کے اس تنظیم کے میڈیا کو بڑا نقصان پہنچایا۔ اس کے باوجود گروہ کا پراپیگنڈا ڈھانچہ دوبارہ منظم ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم اور واشنگٹن پوسٹ نے بھی ان خدشات کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق افغانستان میں دہشتگردی کا دائرہ کار صرف ایک گروہ تک محدود نہیں ہے۔
مستقل عالمی تعاون کی ضرورت
فرانسیسی مندوب نے مربوط انٹیلی جنس شیئرنگ اور سخت نگرانی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عارضی اقدامات کے بجائے دیرپا عالمی حکمتِ عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
افغانستان کی موجودہ صورتحال سے نہ صرف ہمسایہ ممالک بلکہ دیگر ریاستیں بھی خطرے میں ہیں۔ عالمی برادری کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اب مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے۔
دیکھیے: افغانستان میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ: عالمی رپورٹس میں سنگین خطرات کی تصدیق