لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

بھارت کی پرانی روش برقرار

ویمن ایشیا کپ کے فائنل میں بھارتی ٹیم کی جیت اس وقت ماند پڑ گئی جب اس نے صدر اے سی سی سے ٹرافی لینے سے انکار کر کے کھیل کے وقار کو خاک میں ملا دیا۔
بھارتی کرکٹ ٹیم

ویمن ایشیا کپ جیتنے کے باوجود بھارتی ٹیم نے محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہ کی۔ بھارتی طرزِ عمل نے ایک بار پھر کرکٹ میں سیاست کے کردار پر سوال اٹھا دیے۔

September 14, 2026

ویمن ایشیا کپ کے فائنل میں سری لنکا کے خلاف جیت کے بعد ایک بار پھر بھارتی کرکٹ کا منفی چہرہ دنیا کے سامنے آ گیا ہے۔ میدان میں فتح سمیٹنے والی بھارتی ویمنز ٹیم نے تقریبِ تقسیمِ انعامات میں ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ محض ایک تقریب کا بائیکاٹ نہیں بلکہ کھیل کی بنیادی روح، وقار اور بین الاقوامی اسپورٹس مین اسپرٹ کی کھلی تذلیل ہے۔

سیاست زدہ ذہنیت کا تسلسل

بھارتی کرکٹ کا یہ رویہ کوئی پہلا یا غیر معمولی واقعہ نہیں ہے۔ 2025 کے ایشیا کپ فائنل میں بھی بھارتی ٹیم نے ایسے ہی بچگانہ اور غیر سنجیدہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے صدر اے سی سی سے ٹرافی وصول کرنے سے گریز کیا تھا۔ میدان میں ہاتھ نہ ملانے کی دانستہ کوششیں ہوں یا بین الاقوامی کونسل کے سربراہ کی توہین، بھارتی بورڈ اور ٹیم ہمیشہ سیاسی آقاؤں کی خوشنودی کو ترجیح دیتے آئے ہیں۔ جب ایک کھلاڑی جرسی پہن کر میدان میں اترتا ہے تو وہ کھیل کی اقدار کا پابند ہوتا ہے، لیکن بھارتی قیادت نے اپنے کھلاڑیوں کو سیاسی بغض اور ہٹ دھرمی کا آلہ کار بنا کر رکھ دیا ہے۔

ایشین کرکٹ کونسل کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ کونسل نے اپنے طے شدہ عالمی پروٹوکول کو برقرار رکھا اور ٹرافی بدستور موجود تھی۔ تقریب میں پیدا ہونے والا تعطل درحقیقت نئی دہلی کی تنگ نظری اور ایک طرفہ رکاوٹ کا نتیجہ تھا۔ محسن نقوی تقریب میں بطور پاکستانی وزیر نہیں بلکہ خطے میں کرکٹ کے سب سے بڑے ادارے کے منتخب سربراہ کی حیثیت سے موجود تھے۔ بین الاقوامی فورمز پر اپنے ہی براعظمی سربراہ کو تسلیم نہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کھیل کے عالمی ضوابط کو ردی کا ٹکڑا سمجھتی ہے۔

دوہرے معیارات اور تاریخ کا آئینہ

بھارت کی جانب سے کھیل میں سیاست کا زہر گھولنے کی تاریخ طویل ہے۔ 2008 کے بعد سے مسلسل دوطرفہ سیریز سے فرار ہو، یا 2025 کی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان آنے سے انکار کر کے میچز دبئی منتقل کرانے کا ڈراما، بھارت نے ہمیشہ کرکٹ ڈپلومیسی کا گلا گھونٹا ہے۔ ایک طرف بھارتی بورڈ خود کو کرکٹ کی سپر پاور کہلواتا ہے، دوسری طرف معمولی پروٹوکول اور شکست خوردہ ذہنیت کے تحت ٹرافی وصول کرنے سے ڈرتا ہے۔ اگر بھارت کو کسی ادارے کے سربراہ سے اس قدر تکلیف ہے تو وہ ایشین کرکٹ کونسل کے ایونٹس میں شرکت کا ڈھونگ کیوں رچاتا ہے؟

کرکٹ محض چوکوں، چھکوں اور ٹرافیاں اٹھانے کا نام نہیں، بلکہ یہ حریف کا احترام کرنے اور بین الاقوامی سفارتی آداب نبھانے کا تقاضا کرتی ہے۔ فائنل جیت کر بھی ٹرافی لینے سے منہ پھیر لینا کامیابی نہیں بلکہ سفارتی اور اخلاقی پسماندگی کی انتہا ہے۔ بھارتی کرکٹ جس ڈگر پر چل نکلی ہے، وہ نہ صرف خطے میں کرکٹ کے مستقبل کو تاریک کر رہی ہے بلکہ عالمی برادری کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ کھیل کی عالمی گورننگ باڈیز کب تک بھارت کے اس متعصبانہ اور گھمنڈی رویے کے آگے خاموش تماشائی بنی رہیں گی۔

دیکھیے: نئے صوبے آخر کیوں ضروری ہیں؟

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *