لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

لاہور: سہیل آفریدی کی ازخود گرفتاری کا ڈرامہ، 27 ستمبر لانگ مارچ سے بچنے کی کوشش

لاہور میں سہیل آفریدی کی ازخود گرفتاری کا ڈرامہ، پولیس وین سے خود اتر گئے، جبکہ خیبر پختونخوا میں بدامنی کے دوران وزیراعلیٰ کی سیاسی سرگرمیوں پر سوالات اٹھ گئے۔
لاہور میں سہیل آفریدی کی ازخود گرفتاری کا ڈرامہ

لاہور سٹریٹ موومنٹ میں سہیل آفریدی کی ازخود گرفتاری کا ڈرامہ، پولیس وین سے خود اتر گئے، خیبر پختونخوا میں بدامنی کے دوران سیاسی سرگرمیوں پر سوالات۔

September 14, 2026

لاہور میں پی ٹی آئی کی سٹریٹ موومنٹ کے دوران خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ازخود گرفتاری کا ڈرامہ سامنے آگیا۔ سہیل آفریدی لکشمی چوک پہنچے اور پولیس وین سے خود اتر گئے، جس کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی۔

سہیل آفریدی کی جانب سے پولیس وین میں بیٹھنے اور پھر خود اترنے کے واقعے نے ان کی گرفتاری کے معاملے کو مشکوک بنا دیا۔ سیاسی سرگرمی کے دوران وزیراعلیٰ کی گرفتاری کا تاثر پیدا کیا گیا، جبکہ منظر عام پر آنے والی فوٹیج میں وہ خود پولیس وین سے اترتے دکھائی دے رہے ہیں۔

لانگ مارچ سے بچنے کی کوشش

سہیل آفریدی کی ازخود گرفتاری کا یہ ڈرامہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے بچنے کی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا صوبے کی قیادت کے منصب پر فائز ہیں، لیکن ان کی توجہ اس وقت صوبائی معاملات کے بجائے پارٹی سرگرمیوں اور سیاسی مہم پر مرکوز دکھائی دے رہی ہے۔

خیبر پختونخوا اس وقت امن و امان کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، مسلح تصادم اور دیگر پرتشدد واقعات مسلسل عوام اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانیں لے رہے ہیں۔ آج بھی کوہاٹ میں مسلح تصادم کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق اور چار زخمی ہوئے۔

عوام جانیں گنوا رہے ہیں

ایسے حالات میں وزیراعلیٰ کی پہلی ترجیح صوبے میں امن و امان، عوام کے تحفظ اور حکومتی نظام کی بہتری ہونی چاہیے۔ تاہم سہیل آفریدی کی لاہور میں سیاسی سرگرمیوں میں شرکت اور گرفتاری کے معاملے نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ صوبے کے عوام کے بنیادی مسائل ان کی ترجیحات میں کہاں ہیں۔

خیبر پختونخوا کے شہری دہشت گردی اور بدامنی کے اثرات بھگت رہے ہیں۔ خاندان اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں اور کئی علاقوں میں لوگ مسلسل خوف کی فضا میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے میں وزیراعلیٰ کا پارٹی سرگرمیوں میں مصروف رہنا اور سیاسی گرفتاری کے مناظر کا حصہ بننا عوامی مسائل سے لاتعلقی کا تاثر پیدا کرتا ہے۔

صوبے کے عوام کو سیاسی ڈراموں کے بجائے عملی حکمرانی، امن، روزگار اور تحفظ چاہیے۔ وزیراعلیٰ کو یہ جواب دینا ہوگا کہ جب ان کے اپنے صوبے میں امن و امان کی صورتحال سنگین ہے تو وہ لاہور کی سیاسی سرگرمیوں میں اپنا وقت کیوں صرف کر رہے ہیں۔

ایک صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ سے توقع ہوتی ہے کہ وہ بحران کے وقت اپنے صوبے میں موجود رہے، انتظامیہ کو متحرک کرے اور عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دے۔ اس کے برعکس پارٹی سیاست اور سیاسی مہم کو ترجیح دینا وزیراعلیٰ کی حکومتی ترجیحات پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *