لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

اشتیاق کے معاملے پر سہیل آفریدی کا مذہبی کارڈ، پی ٹی آئی سے کڑے سوالات

اشتیاق کے معاملے پر سہیل آفریدی کی جانب سے اسے عاشقِ رسول قرار دینے کے بعد مذہبی جذبات کے سیاسی استعمال اور پی ٹی آئی کے کردار پر سوالات اٹھ گئے۔
سہیل آفریدی کا عاشقِ رسول کارڈ، پی ٹی آئی سے سوالات

اشتیاق کے معاملے پر سہیل آفریدی کے عاشقِ رسول بیان نے سیاسی اور مذہبی بیانیے کو نمایاں کردیا، اہلِ خانہ کے مؤقف کے بعد پی ٹی آئی سے سوالات اٹھ گئے۔

September 14, 2026

لاہور میں پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں کے دوران اشتیاق کے معاملے نے سیاسی اور مذہبی بیانیے کو ایک ساتھ نمایاں کردیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے اشتیاق کو ’’عاشقِ رسول‘‘ قرار دیے جانے کے بعد سیاسی سرگرمی میں مذہبی جذبات کے استعمال پر سوالات اٹھ گئے۔

اشتیاق کے اہلِ خانہ سے منسوب بیان کے مطابق مشکل وقت میں پنجاب پولیس نے خاندان کے ساتھ تعاون کیا، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے انہیں کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی۔

اس صورتحال میں سوال یہ ہے کہ اگر خاندان مشکل وقت میں سرکاری اداروں سے تعاون حاصل کرتا رہا تو بعد میں اس معاملے کو سیاسی اور مذہبی رنگ دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

مشکل وقت میں پارٹی کہاں تھی؟

اشتیاق کے معاملے میں بنیادی سوال اس کے اہلِ خانہ کی مشکلات اور انہیں ملنے والی مدد سے متعلق ہے۔ اگر اہلِ خانہ کے مطابق پنجاب پولیس نے تعاون کیا اور پارٹی کی جانب سے مدد نہیں کی گئی تو سیاسی قیادت کو پہلے اس سوال کا جواب دینا چاہیے کہ مشکل وقت میں پارٹی کارکن اور اس کے خاندان کے ساتھ کیوں کھڑی نہیں ہوئی۔

اس کے بجائے اشتیاق کو ’’عاشقِ رسول‘‘ قرار دے کر معاملے کو مذہبی جذبات سے جوڑنے سے اصل سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ کسی مسلمان کی رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کو سیاسی جماعت یا سیاسی سرگرمی کے ساتھ جوڑنا بھی حساس معاملہ ہے، کیونکہ محبتِ رسول ﷺ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔

مذہب اور سیاست

سیاسی اختلاف یا پارٹی کی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات کا جواب مذہبی جذبات کے ذریعے نہیں دیا جا سکتا۔ اگر کارکنوں یا ان کے خاندانوں سے متعلق کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اس کی وضاحت سیاسی قیادت کو دینی چاہیے۔

اشتیاق کے معاملے میں ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ خاندان کی عملی مدد کس نے کی اور بعد میں افسوس کی ویڈیو کس نے 27 ستمبر کے سیاسی بیانیے کے ساتھ جاری کی؟ اگر ایک ہی واقعے کو بعد میں سیاسی مہم کے لیے استعمال کیا گیا تو اس کے مقاصد پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

سیاسی بیانیہ

خیبر پختونخوا پہلے ہی امن و امان اور گورننس کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں وزیراعلیٰ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ صوبے کے انتظامی معاملات پر توجہ دیں اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

سیاسی سرگرمیوں میں مذہبی جذبات کو شامل کرنے کے بجائے بہتر ہوگا کہ سیاسی قیادت کارکنوں کے مسائل، عوامی مشکلات اور حکومتی کارکردگی پر واضح جواب دے۔ عقیدت اور مذہب کو سیاسی اختلافات کا جواب بنانے سے بنیادی سوال ختم نہیں ہوتے، بلکہ مزید سوالات جنم لیتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *