لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

مکہ معاہدہ: ایک پر حملہ ہوا تو پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ مل کر جواب دیں گے

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے کسی رکن پر حملے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ طور پر ردعمل کا فیصلہ کریں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر۔
مکہ معاہدہ، حملے کی صورت میں تینوں ممالک کا مشترکہ فیصلہ

مکہ معاہدے کے تحت کسی رکن ملک پر حملے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ فیصلہ کریں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر۔

September 16, 2026

اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل کسی ایک ملک پر حملہ ہوا تو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ طور پر ردعمل کا فیصلہ کریں گے۔

عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ تینوں ممالک حملے کی صورت میں حالات کا جائزہ لیں گے۔ اس کے بعد باہمی مشاورت سے ردعمل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت عملی فوجی کارروائی کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی جاتیں۔ دفاع اور سکیورٹی سے متعلق حساس معلومات کو خفیہ رکھنا ضروری ہے۔

پاکستان دفاع کے لیے تیار ہے

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا۔ تاہم ملک اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان نہ صرف اپنا مؤثر دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ جارحیت کی صورت میں جواب دینے اور سزا دینے کی بھی اہلیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی فوجی طاقت بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل خرچ کر رہا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا بنیادی مقصد ملکی دفاع ہے۔

افغانستان پر مؤقف

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں افغانستان میں متعدد دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان حکومت ایسے عناصر کی تربیت کر رہی ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کا بنیادی مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ مکہ معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں امن و استحکام اور مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ شامل ہیں۔ کسی رکن ملک پر حملے کی صورت میں ممکنہ ردعمل کا فیصلہ تینوں ممالک مشترکہ طور پر کریں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مکہ معاہدہ کسی دوسرے ملک یا اتحاد کے خلاف جارحانہ اقدام کے لیے نہیں ہے۔ تینوں ممالک اس معاہدے کے باوجود دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے الگ اور آزادانہ تعلقات برقرار رکھیں گے۔

دیکھیے: سعودی عرب کے 3 شہروں پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 13 زخمی

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *