نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر اہم مؤقف سامنے آ گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر عوامی رائے نئے صوبوں کے حق میں ہو تو کوئی بھی حکومت اس فیصلے کی راہ میں مستقل رکاوٹ نہیں بن سکے گی۔
مؤقف میں کہا گیا ہے کہ عوامی رائے جمہوری عمل میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کسی علاقے کے عوام واضح طور پر نئے صوبے کے قیام کا مطالبہ کریں اور اس مطالبے کو عوامی تائید حاصل ہو جائے تو اسے نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔
سندھ ہو یا کوئی اور حکومت
مؤقف کے مطابق سندھ ہو یا ملک کی کوئی بھی صوبائی حکومت، محض مخالفت کی بنیاد پر عوامی مطالبے کو ہمیشہ کے لیے روکا نہیں جا سکتا۔ تاہم نئے صوبے کا قیام آئینی طریقہ کار کے تحت ہی ممکن ہوگا۔
پاکستان کے آئین کے مطابق کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے پارلیمان میں آئینی ترمیم کا عمل ضروری ہے۔ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری بھی اس عمل کا حصہ ہے۔
اس لیے نئے صوبوں کی بحث صرف سیاسی مخالفت تک محدود نہیں۔ اصل معاملہ عوامی رائے، انتظامی ضرورت اور آئینی تقاضوں کو ساتھ لے کر چلنے کا ہے۔
عوامی مفاد سب سے بڑھ کر
نئے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ انتظامی تقسیم کا بنیادی مقصد عوام کو بہتر حکمرانی، فوری سہولتیں اور مؤثر نمائندگی فراہم کرنا ہونا چاہیے۔
اگر عوام کسی علاقے کے انتظامی مستقبل کے بارے میں واضح رائے دیتے ہیں تو اس رائے کو سیاسی مفاد سے بالاتر ہو کر دیکھا جانا چاہیے۔ عوامی مفاد ہی کسی بھی انتظامی فیصلے کا بنیادی محور ہونا چاہیے۔
نئے صوبوں کا فیصلہ بہرحال آئینی اور جمہوری عمل کے ذریعے ہوگا، تاہم اس بحث میں عوامی رائے کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
دیکھیے: نئے صوبے آخر کیوں ضروری ہیں؟





