وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق یہ مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ مکہ معاہدہ نہ بھی ہو تو مقدس مقامات کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال ایسی ہے جہاں مکہ معاہدے پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ مکہ معاہدہ پاکستان پر لاگو ہوتا ہے اور پاکستان اپنی ذمہ داری پوری کرے گا۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
وزیر دفاع کے مطابق اگر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور لڑائی کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو پاکستان اور ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک سعودی عرب کو عملی اور سفارتی حمایت فراہم کریں گے۔
ایران کو بھی پیغام پہنچا دیا
خواجہ آصف نے کہا کہ حوثی سعودی عرب پر حملے کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر ایران کسی ایک فریق کا ساتھ دیتا ہے تو یہ دانش مندی نہیں ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ایران تک اپنا پیغام پہنچا دیا ہے۔ سعودی عرب نے بھی ایران کو صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ایران اس وقت امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدہ علاقائی صورتحال میں ہے۔ ایسے میں ایک اور محاذ کھولنے یا موجودہ تنازع کو مزید پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق خطے میں پہلے ہی غیر یقینی صورتحال ہے۔ اس لیے کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے اسے بڑے خلفشار میں تبدیل ہونے سے روکنا ضروری ہے۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ مقدس مقامات کا تحفظ کسی رسمی معاہدے تک محدود نہیں۔ پاکستان اسے اپنا فرض سمجھتا ہے۔