پاکستان نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے والے حوثی ڈرون حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنے برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی کے تحفظ کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب کے شہری علاقوں اور تنصیبات پر حوثی حملوں کی بھی مذمت کی ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق ایسا اقدام سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق اس حملے سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات بھی مجروح ہوئے ہیں۔
پاکستان نے واضح کیا کہ وہ سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ اسلام آباد نے حرمین شریفین اور زائرین کی سلامتی کے تحفظ کے لیے سعودی عرب سے یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
سعودی عرب پر حملوں کی مذمت
دفتر خارجہ نے سعودی عرب کے دیگر علاقوں میں ہونے والے حوثی حملوں کی بھی مذمت کی ہے۔ 10 ستمبر کی بریفنگ میں پاکستان نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور معاشی مقامات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی تھی۔
اس سے قبل پاکستان نے سعودی عرب کے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی بھی مذمت کی تھی۔ دفتر خارجہ کے مطابق ان حملوں میں پائپ لائن کو نقصان پہنچا اور شہری زخمی ہوئے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان یمن میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے۔ اسلام آباد خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی موجود ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق اس معاہدے کا بنیادی مقصد علاقائی امن اور استحکام کو مضبوط بنانا ہے اور یہ دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی اور سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ساتھ ہی اسلام آباد یمن کے تنازع کے پرامن حل اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔
دیکھیے: مکہ کی حفاظت کیلئے معاہدے کی ضرورت نہیں، خواجہ آصف کا دوٹوک اعلان