پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں او ایس سی ای کانفرنس 2026 کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم فورم پر آذربائیجان نے پاکستان کے اہم سیکیورٹی اور سفارتی مسائل کو نمایاں انداز میں اٹھایا۔
آذربائیجان کے صدر کے مشیر نے اپنے خطاب میں خطے کے زمینی حقائق کا تفصیلی احاطہ کیا۔ انہوں نے خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالی۔
سندھ طاس معاہدہ
آذربائیجان کے مندوب نے مسئلہ جموں و کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کی توثیق کی۔ فورم پر خطے میں انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اس کے ساتھ ہی سندھ طاس معاہدے کے نفاذ اور پانی کی منصفانہ تقسیم کے امور زیر بحث آئے۔ آذربائیجان نے واضح کیا کہ آبی وسائل سے جڑے معاہدات کا احترام خطے کے استحکام کے لیے لازمی ہے۔
افغان کشیدگی اور علاقائی سلامتی
کانفرنس کے دوران افغانستان کے ساتھ سرحد پر درپیش سیکیورٹی خطرات کا تذکرہ بھی کیا گیا۔ اس تناظر میں پاکستان کی خودمختاری اور شہریوں کے دفاع کے حق کی بھرپور تائید کی گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت اسلام آباد اور باکو کے گہرے سفارتی و اسٹریٹجک تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کی یہ حمایت پاکستان کے مؤقف کو مستحکم بناتی ہے۔
دیکھیے: پکتیکا فضائی حملے: حافظ گل بہادر گروپ نشانہ بنا، مقامی شہری کا دعویٰ