خیبرپختونخوا میں جاری سیاسی سرگرمیوں اور لانگ مارچ کے دوران عوام کو آٹے کے شدید بحران اور مہنگائی کا سامنا ہے۔ مارکیٹ میں آٹے کی قیمتیں اچانک آسمان پر پہنچ گئی ہیں جس سے عام شہری شدید پریشان ہیں۔
صوبے میں 80 کلو آٹے کی بوری ساڑھے 14 ہزار روپے تک فروخت ہو رہی ہے۔ جبکہ 20 کلو آٹے کا تھیلا 3 ہزار 300 سے 3 ہزار 500 روپے کا ہو چکا ہے۔ قیمتوں میں اس اچانک اضافے نے غریب طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔
آٹا ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق پنجاب سے آٹے کی ترسیل میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی ملوں سے مقررہ کوٹہ نہ ملنے اور تقسیم کے نظام میں بے ضابطگیوں نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔
ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی وحید خان کا کہنا ہے کہ حکومت کا تمام تر دھیان سیاسی سرگرمیوں پر ہے۔ حکمرانوں کی عدم توجہی کے باعث عوامی مسائل نظر انداز ہو رہے ہیں اور بحران کا بوجھ عام شہری اٹھا رہا ہے۔
حاجی وحید خان نے الزام عائد کیا ہے کہ انتظامیہ کی ملی بھگت سے فرضی ڈیلرز کو کوٹہ دیا جا رہا ہے۔ حقیقی ڈیلرز کو ان کا مقررہ کوٹہ نہیں مل رہا جس سے مارکیٹ میں مصنوعی شارٹیج پیدا ہو رہی ہے۔
دوسری جانب صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ صوبے کے پاس ڈیڑھ لاکھ میٹرک ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں۔ حکومت کے مطابق روزانہ 3 ہزار میٹرک ٹن گندم ملوں کو جاری کی جا رہی ہے تاکہ آٹے کی کمی نہ ہو۔
حکومتی دعوؤں اور مارکیٹ کی صورتحال میں شدید تضاد نظر آ رہا ہے۔ اگر سرکاری گندم ملوں کو مل رہی ہے تو پھر آٹا عام صارف کے لیے مہنگا کیوں ہو رہا ہے؟ اس سوال نے سپلائی چین پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
صوبے میں گندم کی کم مقامی پیداوار بھی اس بحران کی بڑی وجہ ہے۔ خیبرپختونخوا میں فی ایکڑ گندم کی پیداوار صرف 19 من ہے، جبکہ پنجاب میں 36 من اور بلوچستان میں 30 من فی ایکڑ حاصل ہوتی ہے۔
مقامی پیداوار کم ہونے کی وجہ سے خیبرپختونخوا کا انحصار دوسرے صوبوں پر بہت زیادہ ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ محض گندم خریدنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ محکمہ زراعت اور آبپاشی کو مل کر پیداوار بڑھانی ہوگی۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جلسے اور سیاسی سرگرمیاں اپنی جگہ، مگر روٹی کی فراہمی حکومت کی پہلی ذمہ داری ہے۔ اگر حکومت نے فوری اور شفاف اقدامات نہ کیے تو آنے والے دنوں میں آٹے کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔