اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے ایران کے ترجمان دفتر خارجہ اور امریکی ردعمل پر مبنی بیانات کے بعد ایک نیا سفارتی تنازع سامنے آیا ہے۔
ایرانی ترجمان کے بیان کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا کوئی ذکر نہیں تھا اور ناکہ بندی اس معاہدے کے بعد ہوئی تھی، نہ کہ پہلے۔
مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سفارت کاری کو بدنام کرنے کے لیے واقعات کی ترتیب کو تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ اگر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت نہ ہوتی تو ایران کو انتہائی سنگین اور درپیش حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
اس سفارتی پیش رفت نے انسانی جانیں بچانے، معاشی مشکلات میں کمی لانے اور خطے کو ایک بڑے بحران سے بچانے کے لیے اہم گنجائش پیدا کی تھی، جسے ایرانی ترجمان کو تسلیم کرنا چاہیے۔
مؤقف میں مزید کہا گیا کہ اگر تہران کو واشنگٹن سے شکایات ہیں تو انہیں حقائق کی بنیاد پر اٹھایا جائے، نہ کہ اس سفارتی عمل کو نشانہ بنایا جائے جس نے تصادم کو ٹالنے کا راستہ فراہم کیا۔
دوسری جانب امریکی رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ اعتراف کہ انہیں اس یادداشت پر کبھی یقین نہیں تھا، واشنگٹن کی سفارتی وعدہ خلافیوں اور کھوکھلی پالیسی کو بے نقاب کرتا ہے۔
ایران کے لیے واشنگٹن کی جانب سے بین الاقوامی ذمہ داریوں سے مکر جانا کوئی نئی بات نہیں ہے، تاہم یورپی ممالک اور امریکی اتحادیوں کو اس بدعملی کا دفاع نہیں کرنا چاہیے۔
مجموعی صورتِ حال کے پیش نظر سفارتی کامیابیوں کو سیاسی بیان بازی کی نذر کرنے کے بجائے بین الاقوامی قوانین کی پابندی اور باہمی احترام پر زور دیا جا رہا ہے۔





