اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا اتحاد اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کے دھڑے سے 13 نشستوں کی برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔ تاہم، حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت کسی بھی دھڑے کو حاصل نہیں ہوئی۔
مرکزی الیکشن کمیٹی نے 28 اکتوبر 2026 کو بتایا کہ 28 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر نتن یاہو کے اتحاد کو 59 نشستیں ملیں، جبکہ گادی آئزنکوٹ کے دھڑے نے 46 نشستیں حاصل کیں۔
اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمان، کنیسٹ، میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔ ابتدائی نتائج کے مطابق دونوں دھڑے اس ہدف سے پیچھے ہیں۔
حکومت سازی کا مرحلہ
الیکشن کمیٹی کے مطابق انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 77.7 فیصد رہی، جو دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں بلند ترین سطح ہے۔ یہ شرح 2022 کے انتخابات کے مقابلے میں تقریباً سات فیصد پوائنٹس زیادہ بتائی گئی ہے۔
دوسری جانب ووٹ ڈالنے کے بعد کیے گئے سرویز، جنہیں ایگزٹ پولز کہا جاتا ہے، میں دونوں بڑے سیاسی دھڑوں کے درمیان سخت مقابلے کے اشارے ملے۔ حتمی نتائج سامنے آنے تک حکومت سازی کی صورتِ حال واضح ہونے کا امکان نہیں۔
اسرائیل کے سیاسی نظام میں مختلف جماعتوں کے اتحاد حکومت بنانے کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ اسی لیے انتخابی نتائج کے بعد اتحادی مذاکرات کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔
نیتن یاہو کی کوششیں
نیتن یاہو نے یروشلم میں اپنی جماعت لیکود کے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل میں ایک مضبوط دائیں بازو کی حکومت بننی چاہیے۔ انہوں نے فوجی کامیابیوں کا ذکر کیا اور اسے ایران سے لاحق خطرے کے خاتمے کا تاریخی موقع قرار دیا۔
دوسری جانب گادی آئزنکوٹ نے تل ابیب میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے نتن یاہو سے سیاست چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی عوام نے نیتن یاہو کے وزارتِ عظمیٰ پر برقرار رہنے کے خلاف ووٹ دیا ہے۔
آئزنکوٹ کے مطابق اگر نتن یاہو ذمہ دار رہنما ہوتے تو وہ عوامی اعتماد میں کمی کو تسلیم کرتے اور سیاسی عمل سے سبکدوشی کا اعلان کر دیتے۔
چھوٹی جماعتیں کا کردار
ابتدائی اندازوں کے مطابق ایتمار بن گویر اور بتسلئیل سموتریچ کی قیادت میں دائیں بازو کی مذہبی جماعتیں نتن یاہو کے اتحاد میں مجموعی طور پر 13 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔
دوسری جانب عرب جماعتیں بھی حکومت سازی کے لیے درکار حمایت کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تاہم آئزنکوٹ نے ان جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے کے امکان کو بڑی حد تک مسترد کیا ہے۔
حتمی نتائج آنے میں مزید کئی دن لگ سکتے ہیں۔ اگر کوئی بھی سیاسی دھڑا حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکا تو اسرائیل میں نئے انتخابات کی نوبت بھی آ سکتی ہے۔





