"> افغان طالبان رجیم کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی سنگین نتائج کی وارننگ

طالبان رجیم نے دہشت گردی نہ روکی تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا افغان طالبان رجیم کو دوٹوک پیغام، پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت بند نہ کی تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
افغان طالبان رجیم کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی سنگین نتائج کی وارننگ

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسیز ہیں، جبکہ دہشت گردوں کو افغانستان میں پناہ، اسلحہ اور سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

November 2, 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ اگر افغان طالبان رجیم نے پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت بند نہ کی تو اسے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان طالبان اپنے مقاصد کے حصول کے لیے غیر ریاستی عناصر اور کرائے کے جنگجو استعمال کر رہے ہیں۔ افغانستان میں اب بھی غیر ریاستی عناصر کا اثر و رسوخ ہے اور افغان طالبان رجیم بھارت کی پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے، جبکہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) بھی پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسیز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روسی مداخلت کے بعد افغانستان میں متعدد انٹیلی جنس ایجنسیوں اور پراکسی گروہوں نے اپنی جڑیں مضبوط کرلیں۔ جیش العدل، القاعدہ اور داعش خراسان (آئی ایس کے پی) جیسی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں بھی افغانستان میں موجود ہیں، جس کی نشاندہی اقوام متحدہ، امریکا اور متعدد دیگر ممالک کر چکے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان کا افغان طالبان سے صرف ایک مطالبہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی حمایت بند کریں۔ ان کے مطابق افغان طالبان رجیم نے نور ولی محسود، بشیر زیب اور گل بہادر جیسے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے، جبکہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے جنگجو افغانستان سے آتے اور وہیں سے اسلحہ حاصل کرتے ہیں۔

خیبر پختونخوا

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سابقہ حکومت کے بعض اقدامات انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں رکاوٹ بنے، تاہم اب ایک ایسی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی کا بنیادی مقصد ملک کے اندر دہشت گردوں اور ان کے تمام سہولت کاروں کا خاتمہ ہے۔

ان کے مطابق صوبے میں بڑے فوجی آپریشن کے بجائے روزانہ تقریباً 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جا رہے ہیں، جن میں پولیس، فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر حصہ لیتے ہیں۔ انہوں نے افغانستان کو پاکستان میں دہشت گردی کا بنیادی مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں دہشت گردوں کی قیادت، تربیتی کیمپ اور کارروائیوں کے لیے لانچ پیڈز موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کا سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے اور وہ امن و استحکام کے مستحق ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر افغان طالبان رجیم نے دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان کا مطالبہ تسلیم نہ کیا تو اسے سنگین قیمت چکانا پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم کی عالمی سطح پر کوئی ساکھ نہیں، اس لیے عالمی برادری کو اسے ایک معمول کی ریاست کی طرح رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرنا چاہیے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان طالبان کو منشیات کی کاشت اور پیداوار روکنے کے لیے بھی مجبور کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاک فوج افغانستان سے لاحق تمام خطرات، بشمول ڈرون حملوں، کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

انڈونیشیا میں ستمبر کے دوران جنگلاتی آگ کے زہریلے دھوئیں سے 3 ہزار 560 اموات کا تخمینہ لگایا گیا۔ آخر آگ کیسے پھیلی اور لاکھوں افراد کی زندگی خطرے میں کیوں پڑ گئی؟

November 2, 2026

امریکی صحافی ٹکر کارلسن کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو کے دباؤ پر ٹرمپ ایران کے خلاف جوہری حملے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ممکنہ ہدف پکیکس ماؤنٹین بتایا گیا ہے۔

November 2, 2026

بین الاقوامی رپورٹس نے طالبان کے عادلانہ حکومت کے دعوؤں کا پول کھول دیا، جہاں امر بالمعروف قوانین اور جابرانہ پالیسیوں کے ذریعے خواتین اور اقلیتوں کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔

November 2, 2026

ایل پی جی کی قیمت 700 روپے فی کلو تک پہنچنے کا خدشہ، اوپن مارکیٹ میں پہلے ہی سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت جاری۔

November 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *