افغان طالبان کی مسلط کردہ حکومت کے تحت جاری دینی اور انتظامی پالیسیوں نے افغانستان کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم ایک تاریک دور میں دھکیل دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مشن یوناما اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں کہ طالبان کے نافذ کردہ نام نہاد امر بالمعروف قوانین اور عدالتی ضابطوں کا مقصد محض جبر، خوف اور سوسائٹی پر مکمل کنٹرول کا حصول ہے۔
خواتین کی آزادی پر قدغنیں اور ظلم کی انتہا یہ ہے کہ اکتوبر 2026ء میں صرف چند ماہ کے دوران درجنوں خواتین کو محض لباس اور نقل و حرکت کے نام نہاد بہانوں پر حراست میں لیا گیا۔ چھٹی جماعت سے آگے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی برقرار رکھنا اور عصری و دینی تقاضوں سے منہ موڑنا اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان معاشرے کو جہالت کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ شریعت کا نام لے کر حقوق نسواں کو پامال کرنا اسلامی تعلیمات کی روح کے سراسر منافی ہے۔
اقلیتوں اور مختلف مکاتبِ فکر کے خلاف ریاستی سطح پر تعصب کا بازار گرم ہے۔ شیعہ، اسماعیلی، صوفی اور سلفی مسلمانوں کی عبادات، اجتماعات اور فقہی شناخت پر پابندیاں عائد ہیں، جبکہ ہندو، سکھ اور مسیحی اقلیتیں خوف کے سائے میں اپنی شناخت چھپانے پر مجبور ہیں۔
جب حکومتی سطح پر مذہبی اجارہ داری قائم ہو جائے اور عدالتی کارروائیوں میں منصفانہ سماعت، وکلاء اور اپیل کے حقوق غائب ہوں، تو وہاں انصاف کا تصور بھی محال ہو جاتا ہے۔
ریاستی طاقت اور مذہب کے نام پر من مانی سزاؤں، کوڑوں کے عوامی نفاذ اور سیاسی و فکری اختلاف کو کچلنے کا یہ نظام کسی بھی طور ایک عادلانہ طرزِ حکومت نہیں کہلا سکتا۔ طالبان کا یہ شیوہ ثابت کرتا ہے کہ جب تک اقتدار کے ایوانوں میں جبر اور ظلم کو قانون کا درجہ حاصل رہے گا، تب تک انسانی وقار، مساوات اور آزادی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کو اس ظالمانہ رجیم کے خلاف مؤثر آواز اٹھانی ہوگی۔





