ملک میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے اور رسد کے مسائل کے پیش نظر حکومت نے پالیسی میں تبدیلیوں پر غور شروع کر دیا ہے، جبکہ ایل پی جی ایسوسی ایشن نے قیمت 700 روپے فی کلو تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
میتس گلوبل کے مطابق سردیوں سے قبل ایل پی جی کی فراہمی اور قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے آٹھ رکنی وزارتی کمیٹی مختلف تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کھلی مارکیٹ میں 11.57 کلوگرام کا ایل پی جی سلنڈر 6 ہزار سے 7 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ اوگرا کی جانب سے اکتوبر کے لیے مقرر کردہ قیمت 3 ہزار 296 روپے اور نومبر کے لیے تقریباً 3 ہزار 470 روپے تھی۔
دوسری جانب اوگرا نے رواں ماہ ایل پی جی کی سرکاری قیمت 294 روپے 73 پیسے فی کلو مقرر کر رکھی ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں یہی گیس 570 سے 610 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری قیمتوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث انہیں مقررہ نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
میتس گلوبل کی رپورٹ کے مطابق زیر غور تجاویز میں پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) سمیت سرکاری اداروں کے ذریعے ایل پی جی کی درآمد بڑھانا، درآمدی لاگت کی بنیاد پر ماہانہ قیمتوں کا تعین اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے کم آمدنی والے گھرانوں کو مالی معاونت فراہم کرنا شامل ہے۔
اس کے علاوہ سمندری راستوں سے درآمدات بہتر بنانے، ایل پی جی کے ذخیرے کی حد مقرر کرنے اور مقامی پیداوار کی شفاف تقسیم کے اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی کی سالانہ کھپت 20 سے 24 لاکھ ٹن ہے، جبکہ مقامی پیداوار ملک کی مجموعی طلب کا تقریباً 30 فیصد پورا کرتی ہے۔





