"> ایل پی جی کی قیمت700 روپے کلو ہونے کا خدشہ

ایل پی جی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، 700 روپے کلو ہونے کا خدشہ

ایل پی جی کی قیمت 700 روپے فی کلو تک پہنچنے کا خدشہ، اوپن مارکیٹ میں پہلے ہی سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت جاری۔
ایل پی جی کی قیمت700 روپے کلو ہونے کا خدشہ

سردیوں سے قبل ایل پی جی کی رسد اور قیمتیں مستحکم کرنے کے لیے حکومت کی مجوزہ اصلاحات زیر غور۔

November 2, 2026

ملک میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے اور رسد کے مسائل کے پیش نظر حکومت نے پالیسی میں تبدیلیوں پر غور شروع کر دیا ہے، جبکہ ایل پی جی ایسوسی ایشن نے قیمت 700 روپے فی کلو تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

میتس گلوبل کے مطابق سردیوں سے قبل ایل پی جی کی فراہمی اور قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے آٹھ رکنی وزارتی کمیٹی مختلف تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کھلی مارکیٹ میں 11.57 کلوگرام کا ایل پی جی سلنڈر 6 ہزار سے 7 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ اوگرا کی جانب سے اکتوبر کے لیے مقرر کردہ قیمت 3 ہزار 296 روپے اور نومبر کے لیے تقریباً 3 ہزار 470 روپے تھی۔

دوسری جانب اوگرا نے رواں ماہ ایل پی جی کی سرکاری قیمت 294 روپے 73 پیسے فی کلو مقرر کر رکھی ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں یہی گیس 570 سے 610 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری قیمتوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث انہیں مقررہ نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

میتس گلوبل کی رپورٹ کے مطابق زیر غور تجاویز میں پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) سمیت سرکاری اداروں کے ذریعے ایل پی جی کی درآمد بڑھانا، درآمدی لاگت کی بنیاد پر ماہانہ قیمتوں کا تعین اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے کم آمدنی والے گھرانوں کو مالی معاونت فراہم کرنا شامل ہے۔

اس کے علاوہ سمندری راستوں سے درآمدات بہتر بنانے، ایل پی جی کے ذخیرے کی حد مقرر کرنے اور مقامی پیداوار کی شفاف تقسیم کے اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی کی سالانہ کھپت 20 سے 24 لاکھ ٹن ہے، جبکہ مقامی پیداوار ملک کی مجموعی طلب کا تقریباً 30 فیصد پورا کرتی ہے۔

متعلقہ مضامین

امریکی صحافی ٹکر کارلسن کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو کے دباؤ پر ٹرمپ ایران کے خلاف جوہری حملے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ممکنہ ہدف پکیکس ماؤنٹین بتایا گیا ہے۔

November 2, 2026

بین الاقوامی رپورٹس نے طالبان کے عادلانہ حکومت کے دعوؤں کا پول کھول دیا، جہاں امر بالمعروف قوانین اور جابرانہ پالیسیوں کے ذریعے خواتین اور اقلیتوں کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔

November 2, 2026

خیبرپختونخوا کی آڈٹ رپورٹ 2024-25 میں پی ٹی آئی دورِ حکومت کے دوران 72 ارب روپے کی سنگین مالی بے ضابطگیوں، ترقیاتی فنڈز میں گڑبڑ اور غیر ملکی قرضوں کے نامکمل ریکارڈ کا انکشاف ہوا ہے۔

November 2, 2026

خواجہ آصف کی ڈسکہ بھگدڑ واقعے پر ٹک ٹاکر پتلو کو تنقید، کہا اثرورسوخ سے قانون کو بے اثر بنایا جا رہا ہے۔

November 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *