وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ کے علاقے ڈسکہ میں شادی کی تقریب کے دوران بھگدڑ سے 2 افراد کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کے واقعے پر ٹک ٹاکر انصر محمود عرف مسٹر پتلو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ ٹک ٹاکر پتلو مفرور ہے اور اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے قانون کو بے اثر بنا رہا ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاکر نے اپنی شادی کی تقریب میں بھاری نقد انعامات اور قیمتی تحائف دینے کا اعلان کرکے عوام کا بڑا ہجوم جمع کیا۔ ان کے مطابق یہ سرگرمی سوشل میڈیا سے مزید آمدنی حاصل کرنے کے لیے کی گئی، انعامات اس کی سرمایہ کاری تھے جبکہ کمائی سوشل میڈیا سے ہونی تھی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ علاقے کے غریب عوام کی غربت کا مذاق بنایا گیا اور بڑے ہجوم میں بھگدڑ مچنے سے دو انسانی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے۔
انہوں نے بے لگام سوشل میڈیا کو معاشرے اور ریاست کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا احتساب ہونا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹک ٹاکرز کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کما رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ٹیکس قوانین کے تحت ان کی آمدنی کو ریگولیٹ کیا جا رہا ہے؟
مسٹر پتلو کا ویڈیو بیان
دوسری جانب واقعے کے بعد روپوش ٹک ٹاکر انصر محمود عرف مسٹر پتلو نے ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ واقعے کی تحقیقات کرائی جائیں۔
مسٹر پتلو نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بھگدڑ کے وقت وہ ہسپتال میں موجود تھا اور کمر کی تکلیف کے باعث چلنے پھرنے کے قابل نہیں تھا۔
اس کے مطابق اس نے تقریب کے لیے باقاعدہ این او سی حاصل کیا تھا، تاہم طبیعت خراب ہونے کے بعد پروگرام منسوخ کرنے کا اعلان بھی کردیا تھا۔
مسٹر پتلو کا کہنا تھا کہ تقریب منعقد کرنے کا مقصد غریب بچیوں کی شادیوں میں مدد، مستحق افراد میں راشن اور تحائف تقسیم کرنا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ایف آئی آر میں اس کی اسٹیڈیم میں موجودگی کا ذکر درست نہیں اور واقعے کے وقت وہ بشیر اسپتال میں ایم آر آئی کروا رہا تھا۔
مسٹر پتلو نے کیمروں کی ریکارڈنگ اور دیگر شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صحت یاب ہونے کے بعد وہ خود پیش ہوجائے گا۔
اس نے اپنے ویڈیو بیان میں اپنی اور والد کی خراب صحت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ واقعے پر اسے بھی افسوس ہے۔





