"> خیبرپختونخوا آڈٹ رپورٹ: پی ٹی آئی دور میں اربوں کی مالی بے ضابطگیاں

خیبرپختونخوا: پی ٹی آئی دور میں 72 ارب روپے کی کرپشن کا انکشاف

خیبرپختونخوا کی آڈٹ رپورٹ 2024-25 میں پی ٹی آئی دورِ حکومت کے دوران 72 ارب روپے کی سنگین مالی بے ضابطگیوں، ترقیاتی فنڈز میں گڑبڑ اور غیر ملکی قرضوں کے نامکمل ریکارڈ کا انکشاف ہوا ہے۔
خیبرپختونخوا آڈٹ رپورٹ: پی ٹی آئی دور میں اربوں کی مالی بے ضابطگیاں

خیبرپختونخوا کی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پی ٹی آئی حکومت کے دوران 72 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ سرکاری اخراجات، ترقیاتی فنڈز اور بیرونی قرضوں میں سنگین خامیوں نے مالیاتی نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 2, 2026

خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے مالی سال 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ نے حکمرانی اور شفافیت کے تمام دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔ سرکاری اخراجات، ترقیاتی فنڈز اور بیرونی قرضوں میں 72 ارب 46 کروڑ روپے کی سنگین مالی بے ضابطگیاں اور غیر مصدقہ اخراجات اس بات کا روشن ثبوت ہیں کہ صوبے میں مالیاتی ڈسپلن نام کی کوئی شے باقی نہیں رہی۔

عوام کے ٹیکسوں کے اربوں روپے کی گڑبڑ اور ترقیاتی فنڈز کو جاری اخراجات میں ظاہر کرنے کی چالاکی نے صوبائی حکومت کے مالیاتی نظام کی قلعی کھول دی ہے۔ منظور شدہ بجٹ سے 104 ارب روپے سے زائد رقم ایس اے پی سسٹم میں درج کرنا اور پبلک اکاؤنٹ میں 39 ارب روپے کا منفی بیلنس ظاہر کرنا محض حساب کتاب کی غلطی نہیں بلکہ کھلم کھلا بدعنوانی اور نااہلی کی بدترین مثال ہے۔

بیرونی و اندرونی قرضوں کا ریکارڈ سالہا سال سے اپ ڈیٹ نہ ہونا اور 51 ارب روپے سے زائد کی غیر ملکی ادائیگیوں کا کوئی سراغ نہ ملنا یہ ثابت کرتا ہے کہ صوبے میں انتظامی ڈھانچہ مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ تعلیم، صحت، پولیس اور بنیادی انفراسٹرکچر جیسے عوامی محکموں کے بجٹ میں اربوں کے اضافی اندراجات غریب عوام کے ساتھ سیدھا دھوکہ ہیں۔

یہ دل دہلا دینے والے انکشافات اور ناقابلِ معافی کرپشن دراصل ان تمام ناقدین کو ایک خاموش اور دندان شکن جواب ہے جو صوبے میں گورنر راج یا آئینی اقدامات پر اعتراضات اٹھاتے ہیں۔ جب عوامی فنڈز کی لوٹ مار اس حد تک پہنچ جائے اور ریاستی خزانے کو ذاتی مالِ غنیمت سمجھ لیا جائے، تو پھر گورنر راج کا نفاذ کوئی سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ صوبے کو معاشی تباہی سے بچانے کی آئینی ضرورت بن جاتا ہے۔

پی ٹی آئی کی قیادت، جو ہمیشہ احتساب اور تبدلی کا نعرہ لگاتے نہیں تھکتی تھی، آج اپنے ہی دامن پر لگی ان اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا جواب دینے سے قاصر ہے۔ وقت آگیا ہے کہ نعرے بازی اور مظلومیت کے کارڈ سے ہٹ کر اس لوٹ مار کا سخت حساب لیا جائے اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

امریکی صحافی ٹکر کارلسن کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو کے دباؤ پر ٹرمپ ایران کے خلاف جوہری حملے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ممکنہ ہدف پکیکس ماؤنٹین بتایا گیا ہے۔

November 2, 2026

بین الاقوامی رپورٹس نے طالبان کے عادلانہ حکومت کے دعوؤں کا پول کھول دیا، جہاں امر بالمعروف قوانین اور جابرانہ پالیسیوں کے ذریعے خواتین اور اقلیتوں کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔

November 2, 2026

ایل پی جی کی قیمت 700 روپے فی کلو تک پہنچنے کا خدشہ، اوپن مارکیٹ میں پہلے ہی سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت جاری۔

November 2, 2026

خواجہ آصف کی ڈسکہ بھگدڑ واقعے پر ٹک ٹاکر پتلو کو تنقید، کہا اثرورسوخ سے قانون کو بے اثر بنایا جا رہا ہے۔

November 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *