فروری 2019 میں پاکستان کی حدود میں مار گرائے جانے والے بھارتی فضائیہ کے سابق گروپ کیپٹن ابھی نندن ورتھمان نے 22 سالہ فوجی سروس کے بعد قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 43 سالہ ابھی نندن نے رواں سال مارچ کے اختتام پر بھارتی فضائیہ کو خیرباد کہا اور اگست میں گوا کی نجی ایئرلائن ایف ایل وائے91 میں بطور کمرشل پائلٹ شمولیت اختیار کرلی۔
ابھی نندن اس وقت گوا اور حیدرآباد کے درمیان پروازوں کی تربیتی مراحل سے گزر رہے ہیں۔ ضروری منظوریوں کے بعد وہ مسافر طیارے آپریٹ کریں گے۔
ابھی نندن کو 27 فروری 2019 کو پاک بھارت فضائی معرکے کے دوران اس وقت عالمی شہرت ملی جب ان کا اہم آئی جی طیارہ پاکستانی حدود میں گرایا گیا اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
پاکستان نے یکم مارچ 2019 کو خیرسگالی کے جذبے کے تحت انہیں واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارت کے حوالے کیا تھا، جس کے بعد بھارت نے انہیں ویر چکر سے نوازا۔
فاعی ماہرین کے مطابق بھارتی مسلح افواج میں پیشہ ورانہ عدم اطمینان، ذہنی دباؤ اور نجی شعبے میں مراعات اس فیصلے کی بڑی وجہ ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائیہ میں اعلیٰ افسران اور پائلٹس کو سہولیات اور بنیادی احترام کی کمی کا سامنا رہتا ہے، جس کی وجہ سے متعدد ماہر پائلٹس فوج چھوڑ کر نجی نوکریوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
اس کے برعکس پاکستان میں فوج سے وابستہ افسران اور شہدا کو انتہائی عزت، تحفظ اور اعلیٰ درجہ حرارت و پروٹوکول دیا جاتا ہے، جبکہ بھارتی ادارے اپنے ہی ہیروز کو محض ملازمت کے ایک درجے تک محدود رکھتے ہیں۔