پاکستان میں افغان سفیر سردار احمد شکیب نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں وار کورس کے شرکا سے خطاب کیا۔ انہوں نے علاقائی صورتحال اور پاک افغان تعلقات سمیت مختلف امور پر افغان مؤقف پیش کیا۔
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں وار کورس کے شرکا کو ملکی، علاقائی اور عالمی معاملات پر مختلف ماہرین اور شخصیات سے آگاہی حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔
اسی سلسلے میں مختلف ممالک کے سفارت کاروں اور دیگر مہمان مقررین کو بھی یونیورسٹی میں مدعو کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد شرکا کو مختلف نقطۂ نظر سے آگاہ کرنا اور اہم معاملات کو وسیع تناظر میں سمجھنے میں مدد دینا ہے۔
ماضی میں بھارت سمیت مختلف ممالک کے سفیروں اور سفارتی نمائندوں نے بھی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کیا ہے۔ ان نشستوں کا مقصد کسی مقرر کے مؤقف کی توثیق کرنا نہیں بلکہ مختلف آرا کو سننا اور ان کا تجزیہ کرنا ہے۔
اسی تناظر میں افغان سفیر کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب بھی ایک تعلیمی سرگرمی تھی۔ اسے پاکستان کی سرکاری پالیسی یا کسی مخصوص مؤقف کی حمایت نہیں سمجھا جا سکتا۔
دوسری جانب افغان سفارتخانے نے خطاب کے بعد اس کی تفصیلات اور ویڈیو بھی عوامی سطح پر جاری کردی۔ ویڈیو کے اجرا کے بعد افغان سفیر کی این ڈی یو آمد نے توجہ حاصل کی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی، تجارت، سرحدی معاملات اور علاقائی صورتحال اہم موضوعات ہیں۔ ایسے میں افغان سفیر کا خطاب افغان حکومت کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔
تاہم نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں کسی غیر ملکی سفیر کی شرکت کو پاکستان کے سرکاری مؤقف کی توثیق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ وار کورس میں مختلف آرا سننا اور ان کا تجزیہ کرنا تعلیمی عمل کا حصہ ہے۔