افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغان فضائیہ کے دستوں نے پاکستان کی اہم ترین عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ اعلامیہ میں دعویٰ کیا گیا کہ راولپنڈی میں واقع نور خان ایئربیس، کوئٹہ میں 12 کور ہیڈکوارٹرز اور مہمند ایجنسی میں واقع خویزہ کیمپ پر مؤثر فضائی حملے کیے گئے ہیں۔
افغان حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ کاروائی مبینہ طور پر کابل، بگرام اور دیگر ملحقہ علاقوں میں پاکستانی فضائیہ کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کے جواب میں “برابری کی بنیاد پر” کی گئی ہے۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
— د ملي دفاع وزارت – وزارت دفاع ملی (@MoDAfghanistan2) March 1, 2026
فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ
د ملي دفاع وزارت هوايي ځواکونو نن ورځ یوځل بیا د پاکستان راولپنډۍ نورخان اډه، بلوچستان کوټه ۱۲نمبر قول اردو، خیبر پښتونخوا مهمندو ایجنسي خویزو کمپ او… pic.twitter.com/tNGKTOECC2
زمینی حقائق
افغان وزارتِ دفاع کے ان دعوؤں کے برعکس پاکستان کے تمام علاقوں میں صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق ہے اور کسی بھی قسم کے فضائی حملے یا دھماکے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق راولپنڈی کا نور خان ایئربیس اور کوئٹہ میں فوجی مراکز مکمل طور پر محفوظ ہیں اور وہاں معمول کی عسکری و سول سرگرمیاں جاری ہیں۔
مہمند ایجنسی کے سرحدی علاقوں سے بھی کسی فضائی کاروائی یا نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ افغان حکام کی جانب سے کیا گیا یہ دعویٰ محض ایک “پراپیگنڈا وار” کا حصہ ہے جس کا مقصد حقائق کو مسخ کرنا اور بے جا اشتعال انگیزی پھیلانا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے من گھڑت بیانات داخلی دباؤ کو کم کرنے اور خطے میں کشیدگی کو ہوا دینے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی فضائی حدود مکمل طور پر محفوظ ہیں اور دفاعی نظام کسی بھی قسم کی جارحیت کا فوری جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، موجودہ صورتحال میں افغان وزارتِ دفاع کا یہ بیان محض کاغذوں تک محدود نظر آتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دیکھیے: اسرائیلی افواج نے ایران میں جاں بحق ہونے والی ایرانی اعلیٰ قیادت کی تفصیلات جاری کر دیں