میڈرڈ: اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں یورپی پارلیمنٹ کے دفتر کے باہر افغان تارکینِ وطن، انسانی حقوق کے کارکنوں اور افغان خواتین نے طالبان حکومت کی جابرانہ پالیسیوں کے خلاف ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ 4 جون 2026 کو ہونے والے اس مظاہرے کا اہتمام افغان پارلیمنٹ کے سابق نائب اسپیکر محمد آصف صدیقی نے کیا تھا، جس میں ہسپانوی شہریوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کر کے افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
مظاہرے کے دوران شرکاء نے طالبان مخالف بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے، جن پر انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف اور افغان خواتین کے حقوق کے حق میں نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے یورپی یونین اور عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ افغان خواتین اور مظلوم طبقات کی فوری حمایت کا اعلان کریں اور کابل کی طالبان انتظامیہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے باضابطہ یا سفارتی روابط قائم کرنے سے یکسر گریز کریں۔
احتجاج کے اختتام پر مظاہرین کی جانب سے ہسپانوی اور یورپی حکام کو ایک باقاعدہ قرارداد پیش کی گئی ہے۔ اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ طالبان کے کسی بھی نمائندے کو یورپی پارلیمنٹ یا دیگر بین الاقوامی فورمز پر مدعو نہ کیا جائے اور بیرونِ ملک قائم افغان سفارت خانوں کا کنٹرول کسی صورت طالبان کے حوالے نہ کیا جائے۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، روزگار، نقل و حرکت کی آزادی اور سماجی زندگی سے مکمل طور پر محروم کر دیا گیا ہے، جبکہ ملک میں جبری اور کم عمری کی شادیوں کے رجحان میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق نائب اسپیکر محمد آصف صدیقی نے مطالبہ کیا کہ طالبان قیادت کی جانب سے کیے جانے والے مبینہ انسانیت سوز جرائم کی تحقیقات نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے ذریعے کرائی جائیں۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ طالبان انتظامیہ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP)، بلوچ دہشت گرد گروہوں اور داعش جیسے شدت پسند عناصر کی پشت پناہی کر رہی ہے۔
مظاہرین نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ اگر افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس اور طالبان کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کا تدارک نہ کیا گیا، تو یہ صورتحال نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن جائے گی۔ آصف صدیقی نے دنیا بھر میں مقیم افغان برادری سے اپیل کی کہ وہ اس احتجاجی سلسلے کو مزید وسعت دیں اور عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ افغانستان کو فراہم کی جانے والی مالی امداد کا فوری طور پر ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔