پاک افغان سرحدی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے۔ اسلامی امارت افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے آج کی پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور اسلامی امارت خطے میں امن و استحکام کی خواہاں ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی داخلی جنگ اس کا اپنا معاملہ ہے جسے افغانستان پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان فضائی حدود کی خلاف ورزی اور مبینہ بمباری کے واقعات ناقابل قبول ہیں، تاہم اسلامی امارت اب بھی مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے چاہتی ہے۔
دوسری جانب خوست صوبے کے حکام کے ترجمان مستغفر گربز نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان فورسز نے خوست کے اضلاع زازی میدان، علی شیر اور تریزی میں پاکستانی چوکیوں کے خلاف نئی جوابی کارروائیاں شروع کی ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات حالیہ سرحدی کشیدگی کے ردعمل میں کیے جا رہے ہیں۔ مقامی پاکستانی ذرائع نے بھی سرحدی علاقوں میں شدید فائرنگ کی تصدیق کی ہے۔
ادھر سراج الدین حقانی کی جانب سے بھی سخت بیان سامنے آیا ہے جس میں اسلام آباد کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ افغان فورسز کو اب تک روکا گیا ہے، بصورت دیگر صورتحال مزید سنگین ہو سکتی تھی۔ سرحدی علاقوں خصوصاً خوست اور وزیرستان کے اطراف جھڑپوں کی اطلاعات کے بعد خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔