افغانستان کے اندرونی حالات ایک بار پھر مزاحمت کی طرف سفر کر رہے ہیں۔ امریکی تحقیقی جریدے لانگ وار جرنل کی تازہ ترین رپورٹ نے اس تلخ حقیقت سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ کابل پر قابض طالبان رجیم کے لیے اقتدار کی راہ اتنی آسان نہیں رہی جتنی وہ سمجھ بیٹھے تھے۔ اکتوبر کے مہینے میں طالبان مخالف مسلح مزاحمتی گروپوں کی کارروائیوں میں دوگنا سے زیادہ اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان دھرتی پر سلگتی ہوئی چنگاریاں اب ایک نئے اور خطرناک طوفان کا روپ دھار رہی ہیں۔
خوف کی فضا
صرف ایک ماہ کے دوران 22 صوبوں میں 82 حملوں کی ذمہ داری قبول کیا جانا اور طالبان کے 122 کارندوں کی ہلاکت کا دعویٰ اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ افغان عوام اور سابق سکیورٹی اہلکاروں کا غصہ اب کھل کر میدان میں آ چکا ہے۔ آئی ای ڈی دھماکوں، گھات لگا کر کیے جانے والے حملوں اور ٹارگٹ کلنگ نے طالبان رجیم کی سکیورٹی لکیروں کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار مزاحمتی گروپوں کے اپنے دعووں پر مبنی ہیں، لیکن ان کی وسعت اور شدت کابل حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ضرور ہے۔
افغان فرنٹ کی صف بندی
اس نئی مسلح لہر میں سابق افغان کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سمیع سادات کی قیادت میں قائم افغان یونائیٹڈ فرنٹ (اے یو ایف) نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اکیلے 36 حملوں کے دعوے اور طالبان کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں قندھار اور ہلمند میں کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب مزاحمت صرف پنجشیر کی وادیوں تک محدود نہیں رہی۔ ایک ہی دن میں چھ صوبوں میں سات حملے کرنا اس منظم منصوبہ بندی کا منہ بولتا ثبوت ہے جو کابل کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کی نیندیں اڑانے کے لیے کافی ہے۔
نئے محاذ
احمد مسعود کی نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، یاسین ضیا کی افغان فریڈم فرنٹ اور نئی تشکیل پانے والی تنظیمیں جیسے افغان نیشنل لبریشن فرنٹ، اس بات کا پتا دیتی ہیں کہ مزاحمت اب مزید وسعت اختیار کر رہی ہے۔ فیض آباد میں طالبان انٹیلی جنس کے نائب سربراہ کی ہلاکت یا بگرام ایئربیس پر راکٹ حملے اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ طالبان اپنے ہی گھر میں محفوظ نہیں ہیں۔
ایک بار پھر خانہ جنگی کے دہانے پر
طالبان رجیم نے طاقت کے زور پر افغانستان پر کنٹرول تو حاصل کر لیا، لیکن وہ عوام کے دلوں کو جیتنے اور ریاست کو چلانے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ اگرچہ مزاحمتی گروپوں میں باہمی تقسیم اور مربوط حکمت عملی کا فقدان اب بھی ان کی کمزوری ہے، لیکن بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیاں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ افغانستان کا یہ زخم ناگاں ناسور بنتا جا رہا ہے، جو خطے کے امن کو ایک بار پھر لپیٹ میں لے سکتا ہے۔





