افغانستان کے صوبہ ہرات کے علاقے جبرائیل میں خواتین کی من مانی گرفتاریوں اور لازمی حجاب پالیسی کے خلاف ہونے والے پُرامن احتجاج پر طالبان اہلکاروں نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں بچے سمیت متعدد شہری زخمی ہو گئے۔

June 9, 2026

مظفرآباد کے علاقے چہلہ میں انٹیلی جنس آپریشن کے دوران را اور فتنۃ الخوارج سے منسلک 5 کارندے گرفتار کر لیے گئے، جن کے قبضے سے نقشے اور اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

June 9, 2026

ٹام لینٹوس کمیشن کے بیان پر ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری مقدمہ پیکا قوانین کے تحت سائبر دہشت گردی سے متعلق ہے، جس میں عدالتی خودمختاری اور قومی سلامتی کا احترام ناگزیر ہے۔

June 9, 2026

سلامتی کونسل اجلاس میں روس نے پاک افغان کشیدگی کو فتنۃ الخوارج کی دہشت گردی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے داعش کو خطے کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

June 9, 2026

بھارتی ریاست منی پور کے ضلع اوکھرول میں نئی فوجی چوکی کے قیام کے خلاف احتجاج کرنے والے شہریوں پر آسام رائفلز نے لاٹھی چارج اور فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں خواتین سمیت 4 مظاہرین زخمی ہو گئے۔

June 9, 2026

لبنان کی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف جنرل روڈولف ہائیکل نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کر کے دوطرفہ دفاعی و عسکری تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔

June 9, 2026

افغانستان دہشت گرد تنظیموں کا گڑھ بن چکا ہے، امریکی جریدے یوریشیا ریویو کا دعویٰ

امریکی جریدے یوریشیا ریویو کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان دہشت گرد تنظیموں کا گڑھ بن چکا ہے، جہاں طالبان انتظامیہ القاعدہ سمیت متعدد عسکری گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور تربیتی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
امریکی جریدے یوریشیا ریویو کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان دہشت گرد تنظیموں کا گڑھ بن چکا ہے، جہاں طالبان انتظامیہ القاعدہ سمیت متعدد عسکری گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور تربیتی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔

امریکی جریدے یوریشیا ریویو کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کے زیرِ سایہ عسکریت پسندوں کو اسٹریٹجک اور آپریشنل مدد مل رہی ہے، جو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

June 3, 2026

واشنگٹن: امریکی جریدے یوریشیا ریویو میں شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان اس وقت مختلف بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کا گڑھ بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، افغان طالبان خطے میں سرگرم عمل القاعدہ سمیت متعدد عسکری اور جہادی نیٹ ورکس کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی خدشات

اشاعت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیکیورٹی اور دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کے شدید تحفظات اور طالبان کے اپنے وعدوں کے باوجود، یہ عسکری گروہ افغانستان کے اندر مسلسل موجود ہیں اور اپنی جڑیں مضبوط کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، طالبان انتظامیہ ان گروہوں کی موجودگی سے نہ صرف چشم پوشی کر رہی ہے بلکہ انہیں سیکیورٹی بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

تربیت اور اسٹریٹجک معاونت

امریکی جریدے نے واضح کیا ہے کہ افغانستان میں موجود عسکریت پسندوں کو منظم طریقے سے تربیت، اسٹریٹجک رہنمائی اور آپریشنل مدد حاصل ہو رہی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ یہ انتہا پسند تنظیمیں اپنی صلاحیتوں میں اضافے کے بعد مستقبل قریب میں اپنی تخریبی سرگرمیوں کا دائرہ کار افغانستان کی سرحدوں سے باہر تک پھیلا سکتی ہیں۔

افغانستان کی سکیورٹی

یوریشیا ریویو کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال اور عسکریت پسندوں کو روکنے کے حوالے سے طالبان انتظامیہ کی اہلیت اور نیت پر عالمی برادری میں پہلے ہی سے ایک طویل بحث جاری ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ رپورٹ ان عالمی تحفظات کو مزید تقویت دیتی ہے کہ افغان سرزمین ایک بار پھر پڑوسی ممالک اور عالمی امن کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

افغانستان کے صوبہ ہرات کے علاقے جبرائیل میں خواتین کی من مانی گرفتاریوں اور لازمی حجاب پالیسی کے خلاف ہونے والے پُرامن احتجاج پر طالبان اہلکاروں نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں بچے سمیت متعدد شہری زخمی ہو گئے۔

June 9, 2026

مظفرآباد کے علاقے چہلہ میں انٹیلی جنس آپریشن کے دوران را اور فتنۃ الخوارج سے منسلک 5 کارندے گرفتار کر لیے گئے، جن کے قبضے سے نقشے اور اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

June 9, 2026

ٹام لینٹوس کمیشن کے بیان پر ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری مقدمہ پیکا قوانین کے تحت سائبر دہشت گردی سے متعلق ہے، جس میں عدالتی خودمختاری اور قومی سلامتی کا احترام ناگزیر ہے۔

June 9, 2026

سلامتی کونسل اجلاس میں روس نے پاک افغان کشیدگی کو فتنۃ الخوارج کی دہشت گردی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے داعش کو خطے کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

June 9, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *