پاکستان نےسرحد پار سے جاری دہشت گردی کے سدِباب کے لیے حالیہ دنوں میں غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف ملک گیر کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اسی تسلسل میں سندھ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں مشترکہ چھاپے مار کر غیر قانونی طور پر مقیم 49 افغان باشندوں کو حراست میں لینے کے بعد ہولڈنگ پوائنٹ کے ذریعے افغانستان ڈی پورٹ کر دیا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں واقع بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے بھی 2 افغان طلبہ کو حراست میں لے کر بے دخل کیا گیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو یہ سخت اقدامات ملکی بقا اور سکیورٹی چیلنجز کے باعث اٹھانے پڑ رہے ہیں، کیونکہ پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آئے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں اکثریت افغان شہریوں کی ہوتی ہے جنہیں بھارت کی سرپرستی حاصل ہے، جبکہ افغان طالبان رجیم ان دہشت گردوں کو سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
ناقابلِ تردید شواہد
تحقیقات کے مطابق 15 جولائی 2024 کو بنوں کینٹ پر ہونے والے حملے میں ملوث اور ہلاک دہشت گرد عثمان اللہ کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی تھی، جس کے بعد افغانستان کے صوبہ پکتیا میں اس کے لیے باقاعدہ بڑا تعزیتی اجتماع منعقد کیا گیا۔

اسی طرح 10 نومبر 2025 کو کیڈٹ کالج وانا پر خودکش حملہ کرنے والے دہشت گرد جان اللہ کا تعلق بھی افغان صوبے ننگرہار سے تھا، جس کی ہلاکت کے بعد افغان طالبان کے اعلیٰ حکام نے اس کی تعزیتی تقریب میں سرِعام شرکت کی۔

اس کے علاوہ باجوڑ میں ہلاک ہونے والے افغان نژاد ٹی ٹی پی دہشت گرد ملا صدام کے لیے افغانستان کے صوبے کندز اور فرانس کے شہر رینس کی مسجد میں عوامی تعزیتی اجتماعات منعقد کیے گئے، جو دہشت گردی کے بین الاقوامی روابط کو ظاہر کرتے ہیں۔
طالبان کمانڈر کا اعتراف
پاکستان کے ان تمام مؤقف کی تصدیق خود طالبان کے منحرف کمانڈر حاجی جمعہ خان فتح کے حالیہ اعتراف سے بھی ہوتی ہے، جنہوں نے پہلی مرتبہ کھلے عام یہ مانا ہے کہ مختلف غیر ملکی عسکریت پسند گروہ افغانستان میں موجود ہیں۔
پاکستان کا اصولی مؤقف
ان شواہد اور اعترافات نے افغان طالبان کے ان دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ملکی بقا، معاشی ترقی اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور قوم کی حمایت سے ان دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔