لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کے مفت طبی کیمپ کے دوران نام نہاد امن کمیٹی کے منفی کردار نے ان کے ریاست مخالف پراپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے۔

August 9, 2026

افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے پاکستان سے 74 ہتھیاروں کی اسمگلنگ کا دعویٰ بے بنیاد اور من گھڑت ثابت ہوا ہے، جس کا مقصد اپنی اندرونی ناکامیوں کو چھپانا ہے۔

August 9, 2026

جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی رپورٹ میں طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان کے معدنی شعبے میں غیر شفاف معاہدوں، مبینہ کرپشن اور اقربا پروری پر سنگین سوالات اٹھا دیے گئے۔

August 9, 2026

محکمۂ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبے سے 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد غیر قانونی افغان شہریوں کو وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔

August 9, 2026

برطانوی اخبار دی گارڈین اور زن ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے اقتدار کے بعد افغانستان کے 10 صوبوں میں خواتین کے قتل کے 231 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

August 9, 2026

بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں جے ایس ایس سی امتحانی پیپر لیک اسکینڈل کی سی آئی ڈی رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد طلبہ کا احتجاج 16ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔

August 9, 2026

طالبان دور میں خواتین پر ظلم بے نقاب، قتل و تشدد کے 231 واقعات رپورٹ

برطانوی اخبار دی گارڈین اور زن ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے اقتدار کے بعد افغانستان کے 10 صوبوں میں خواتین کے قتل کے 231 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
طالبان دور میں خواتین پر ظلم بے نقاب

دی گارڈین کا انکشاف: افغانستان میں خواتین پر گھریلو تشدد اور قتل کے واقعات میں شدید اضافہ ہوا ہے، کئی ہلاکتوں کو خودکشی قرار دے دیا گیا۔

August 9, 2026

برطانوی اخبار دی گارڈین اور میڈیا آرگنائزیشن زن ٹائمز کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگست 2021ء کے بعد سے افغانستان کے 10 صوبوں میں خواتین کے قتل اور شدید تشدد کے کم از کم 231 تصدیق شدہ واقعات پیش آئے ہیں۔

تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار صرف ان کیسز پر مشتمل ہیں جن کی صحافی تصدیق کر سکے ہیں، جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ 36 واقعات جوزجان، 32 ہرات، 28 بدخشان اور 26 غزنی میں ریکارڈ کیے گئے، جہاں متاثرہ خواتین کی عمریں 5 سے 65 سال کے درمیان تھیں۔

تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ 165 خواتین گھریلو تھیں جن کے پاس اپنا کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا، جس نے ان کے لیے تشدد سے فرار یا انصاف کا حصول ناممکن بنا دیا۔

ریکارڈ کیے گئے 231 کیسز میں سے صرف 58 میں ملزمان کی گرفتاری کی اطلاعات ملیں، جبکہ متعدد کیسز میں ملزمان کو بعد میں جلد ہی رہا کر دیا گیا۔

رپورٹ میں درج 53 ہلاکتوں کو سرکاری طور پر خودکشی قرار دیا گیا، تاہم لواحقین کے مطابق ان خواتین کو شدید گھریلو تشدد کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

تحقیقات کے مطابق طالبان حکومت نے خواتین کے تحفظ سے متعلق تمام قانونی اور عدالتی ادارے ختم کر دیے ہیں، جن میں 2023ء میں اٹارنی جنرل آفس کی معطلی، وزارتِ خواتین کا خاتمہ، سیف ہاؤسز کی بندش اور 250 خاتون ججوں کی برطرفی شامل ہے۔

اس وقت افغان عدالتی نظام میں بنیادی تحفظ ختم ہونے کے باعث خواتین اور مائیں اپنے خلاف یا اپنی بیٹیوں کے معالے میں قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے کے حق سے مکمل محروم ہو چکی ہیں۔

متعلقہ مضامین

لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کے مفت طبی کیمپ کے دوران نام نہاد امن کمیٹی کے منفی کردار نے ان کے ریاست مخالف پراپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے۔

August 9, 2026

افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے پاکستان سے 74 ہتھیاروں کی اسمگلنگ کا دعویٰ بے بنیاد اور من گھڑت ثابت ہوا ہے، جس کا مقصد اپنی اندرونی ناکامیوں کو چھپانا ہے۔

August 9, 2026

جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی رپورٹ میں طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان کے معدنی شعبے میں غیر شفاف معاہدوں، مبینہ کرپشن اور اقربا پروری پر سنگین سوالات اٹھا دیے گئے۔

August 9, 2026

محکمۂ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبے سے 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد غیر قانونی افغان شہریوں کو وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔

August 9, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *