دوسرا گروہ کابل میں موجود طاقتور طالبان وزرا پر مشتمل ہے، جو خود کو زیادہ عملیت پسند قرار دیتا ہے۔ اس گروہ میں نائب وزیر اعظم عبدالغنی برادر، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد شامل ہیں۔

January 16, 2026

طالبان حکومت نے بھارت میں اپنا پہلا سینئر سفارتی نمائندہ تعینات کیا ہے۔ تعیناتی کے بعد نئے قائم مقام سربراہ نور احمد نور نے بھارتی تاجروں سے ملاقات کی

January 16, 2026

بنوں پولیس کے مطابق راکٹ ایک زیرِ تعمیر عمارت سے ٹکرایا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں

January 16, 2026

دفتر خارجہ کے ترجمان نے آخر میں کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کی بحالی کے لیے مثبت اشاروں اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو یقین ہے کہ اگر دہشت گردی کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے تو پاک افغان تعلقات ایک نئے اور بہتر دور میں داخل ہو سکتے ہیں۔

January 15, 2026

پاکستان نے امید ظاہر کی کہ ایرانی حکومت کی جانب سے عوام کے لیے اعلان کردہ ریلیف اقدامات عوامی مشکلات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایران کے عوام اور قیادت کی دانشمندی پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور کسی بھی قسم کی افراتفری یا عدم استحکام کو پاکستان کے مفاد میں نہیں سمجھتا۔

January 15, 2026

دفتر خارجہ کی بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور امن، علاقائی استحکام، خودمختاری کا احترام اور مظلوم اقوام کی حمایت ہے۔ پاکستان خلیجی دنیا، مسلم ممالک، ہمسایہ ریاستوں اور عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن، ذمہ دار اور اصولی سفارت کاری جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

January 15, 2026

انصاراللّٰہ نے اسرائیلی حملے میں حوثی وزیراعظم احمد الرہوی کی شہادت کی تصدیق کر دی

رپورٹ کے مطابق یہ حملہ 28 اگست 2025 کو صنعاء کے جنوبی حصے میں واقع الحدیدہ علاقے میں ہوا۔
انصاراللّٰہ نے حوثی وزیراعظم کی شہادت کی تصدیق کر دی

احمد غالب ناصر الرہوی حوثیوں کی حمایت یافتہ یمن حکومت کے وزیراعظم تھے، جو انصار اللہ تنظیم کے قریب ترین اتحادیوں میں سے ایک تھے۔

August 31, 2025

یمن کی حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللّٰہ نے اسرائیلی حملے میں وزیراعظم احمد غالب کی شہادت کی تصدیق کر دی۔

حوثی گروپ نے تصدیق کی کہ جمعرات کو صنعا میں اسرائیلی فضائی حملے میں ان کے وزیراعظم احمد الرہوی اپنی ٹیم کے ساتھ شہید ہوگئے ہیں۔

حوثی گروپ کے بیان میں کہا گیا کہ احمد الرہوی اور ان کے وزرا حکومت کی معمول کی ورکشاپ کے دوران اس حملے کا نشانہ بنے، حوثیوں کا کہنا ہے اسرائیلی حملے سے ان کے حوصلے پست نہیں ہوں گے بلکہ وہ اپنی افواج کو مزید مضبوط کریں گے تاکہ جارحیت کا مقابلہ کر سکیں۔

حوثیوں کے بیان کے مطابق، وزیراعظم احمد الرہوی کے علاوہ ان کے ساتھی وزراء اور فوجی افسران بھی اس حملے میں شہید ہوئے۔ ابتدائی رپورٹس میں 5 سے زائد اعلیٰ عہدیداروں کا ذکر ہے، لیکن حتمی تعداد کی تصدیق نہیں ہوئی۔ حملے میں عام شہریوں کو بھی نقصان پہنچا، جسے حوثیوں نے “امن کی خلاف ورزی” قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ حملہ 28 اگست 2025 کو صنعاء کے جنوبی حصے میں واقع الحدیدہ علاقے میں ہوا۔ یہ علاقہ حوثیوں کا ایک اہم مرکز ہے، جہاں ان کی فوجی اور انتظامی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔

اسرائیلی فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں اسرائیلی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کیا گیا تھا، اسرائیلی حکام نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن کچھ ذرائع کے مطابق یہ ان کی خفیہ کارروائی تھی۔ اسرائیلی میڈیا میں اسے “حوثی قیادت پر کامیاب حملہ” قرار دیا گیا ہے۔

احمد غالب ناصر الرہوی کا پس منظر

 احمد غالب ناصر الرہوی حوثیوں کی حمایت یافتہ یمن حکومت کے وزیراعظم تھے، جو انصار اللہ تنظیم کے قریب ترین اتحادیوں میں سے ایک تھے۔ وہ 2023 میں اس عہدے پر فائز ہوئے اور یمن کی معاشی اور فوجی پالیسیوں پر ان کا اہم کردار تھا۔ حوثیوں کی جانب سے انہیں “مجاہد” کا لقب دیا جاتا ہے، اور وہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک کا اہم ستون سمجھے جاتے تھے۔

دیکھیں: اقوام متحدہ نے غزہ کو قحط زدہ قرار دے دیا، اسرائیلی فضائی حملوں میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

دوسرا گروہ کابل میں موجود طاقتور طالبان وزرا پر مشتمل ہے، جو خود کو زیادہ عملیت پسند قرار دیتا ہے۔ اس گروہ میں نائب وزیر اعظم عبدالغنی برادر، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد شامل ہیں۔

January 16, 2026

طالبان حکومت نے بھارت میں اپنا پہلا سینئر سفارتی نمائندہ تعینات کیا ہے۔ تعیناتی کے بعد نئے قائم مقام سربراہ نور احمد نور نے بھارتی تاجروں سے ملاقات کی

January 16, 2026

بنوں پولیس کے مطابق راکٹ ایک زیرِ تعمیر عمارت سے ٹکرایا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں

January 16, 2026

دفتر خارجہ کے ترجمان نے آخر میں کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کی بحالی کے لیے مثبت اشاروں اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو یقین ہے کہ اگر دہشت گردی کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے تو پاک افغان تعلقات ایک نئے اور بہتر دور میں داخل ہو سکتے ہیں۔

January 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *