ایمنسٹی انٹرنیشنل نے وزیرِاعظم شہباز شریف کو ایک کھلا خط ارسال کرتے ہوئے پاکستان میں افغان مہاجرین کی مبینہ غیرقانونی حراست، ہراسانی اور بے دخلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ افغان شہریوں کی ملک بدری روکی جائے جبکہ بین الاقوامی تحفظ کے متقاضی افراد کے حقوق کو یقینی بنایا جائے۔
PAKISTAN: Amnesty International writes to Prime Minister Shehbaz Sharif to express grave concerns regarding unlawful detention, harassment and deportation of Afghan refugees in Pakistan.
— Amnesty International South Asia, Regional Office (@amnestysasia) January 9, 2026
In an open letter addressed to @CMShehbaz, Amnesty International calls on the Pakistani…
تاہم پاکستان کے سرکاری اور پالیسی حلقوں کا مؤقف ہے کہ گزشتہ چالیس برسوں سے زائد عرصے کے دوران پاکستان نے افغان مہاجرین کی میزبانی کی ایک ایسی انسانی روایت قائم کی ہے جس کی مثال عالمی سطح پر کم ہی ملتی ہے۔ پاکستان نے اس وقت اپنی سرحدیں کھولیں جب افغانستان میں جنگ، غیر ملکی افواج کی موجودگی اور ریاستی نظام کا خاتمہ ہو چکا تھا، اور اس دوران پاکستان نے سماجی، معاشی اور سکیورٹی دباؤ بین الاقوامی برادری کی مؤثر مدد کے بغیر برداشت کیا۔
پاکستانی حکام کے مطابق یہ مہمان نوازی ایسے وقت میں جاری رہی جب خود پاکستان دہشت گردی، معاشی مشکلات اور قدرتی آفات جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا تھا۔ قانونی پہلو سے وضاحت کی گئی ہے کہ افغان شہریوں کے تمام پروف آف رجسٹریشن اور افغان سٹیزن کارڈز کی مدت ختم ہو چکی ہے، اس کے باوجود پاکستان نے برسوں تک خالصتاً انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان میں بارہا توسیع کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ توسیعات کسی قانونی حق کے تحت نہیں بلکہ پاکستان کی جانب سے حسنِ نیت اور خیرسگالی کے طور پر دی گئیں، جبکہ پاکستان 1951 کے ریفیوجی کنونشن کا دستخط کنندہ بھی نہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ جن حالات کی بنیاد پر افغان شہریوں نے پاکستان کا رخ کیا تھا، یعنی جنگ اور ریاستی انتشار، وہ اب بڑی حد تک تبدیل ہو چکے ہیں کیونکہ افغانستان میں ایک واحد حکومت ملک کے بیشتر حصے پر کنٹرول رکھتی ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق اگرچہ عالمی برادری کو افغانستان کی سیاسی صورتحال پر تحفظات ہو سکتے ہیں، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ افغانستان اب اس نوعیت کا فعال جنگی علاقہ نہیں رہا جو دہائیوں قبل بڑے پیمانے پر ہجرت کا سبب بنا تھا۔ اس بدلتی صورتحال میں افغان شہریوں کی رضاکارانہ واپسی ایک معقول، قانونی اور اخلاقی توقع ہے۔
پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ کوئی بھی ملک غیر معینہ مدت تک لاکھوں غیر دستاویزی غیر ملکی شہریوں کی میزبانی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس عمل کو جبری بے دخلی کے بجائے اپنے وطن واپسی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ حکام کے مطابق پاکستان نے مرحلہ وار، منظم اور انسانی بنیادوں پر واپسی کے لیے مناسب مہلت، بارہا ڈیڈ لائنز اور سہولیات فراہم کیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ اصل ذمہ داری افغان عبوری حکام اور بین الاقوامی برادری پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی بحالی اور انضمام کو یقینی بنائیں۔ پالیسی سازوں کے مطابق مستقل حل یہ نہیں کہ بوجھ ہمیشہ پڑوسی ممالک پر ڈالا جائے بلکہ افغانستان کے اندر ترقیاتی امداد، روزگار کے مواقع اور بحالی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جائے۔
آخر میں پاکستان نے اعادہ کیا ہے کہ وہ انسانی اقدار، علاقائی استحکام اور باعزت واپسی کے اصولوں پر قائم ہے، تاہم مہمان نوازی افغان ریاستی ذمہ داری کا مستقل متبادل نہیں بن سکتی اور سخاوت کو قانونی مجبوری کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ پاکستان کے مطابق پائیدار حل رضاکارانہ واپسی، افغانستان میں عالمی معاونت اور منصفانہ بوجھ کی تقسیم میں مضمر ہے۔
دیکھیں: پاک بحریہ کی شمالی بحیرۂ عرب میں بڑی مشق، جدید میزائل اور بغیر پائلٹ نظاموں کا کامیاب مظاہرہ