وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت گورنر ہاؤس پشاور میں اعلیٰ سطحی ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں خیبر پختونخوا کی مجموعی سکیورٹی صورت حال، امن و امان، انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات، انتظامی مسائل اور ترقیاتی ترجیحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں آرمی چیف جنر ل عاصم منیر، وفاقی و صوبائی قیادت، اعلیٰ عسکری حکام، وزرا اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں خیبر پختونخوا میں امن، استحکام اور خوش حالی کے لیے مربوط حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا، جس کے تحت سکیورٹی اداروں کی استعداد میں اضافہ، بہتر طرزِ حکمرانی، ترقیاتی منصوبوں میں تیزی اور معاشی مواقع بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
اس موقع پر صوبے کے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ہنگامی حالت اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے نفاذ کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
کمیٹی نے دہشت گردی کے باعث ہونے والے بھاری جانی اور معاشی نقصانات کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ اس ناسور کے نتیجے میں تقریباً 80 ہزار افراد جاں بحق جبکہ سوبوں ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، نیز سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے سکیورٹی، انٹیلی جنس، سیاسی، انتظامی اور سماجی و معاشی اقدامات پر مشتمل جامع حکمت عملی اپنانے اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔
علاوہ ازیں خیبر پختونخوا پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو جدید آلات، اسلحے، بکتر بند گاڑیوں اور اضافی اہلکاروں کی فراہمی سے مضبوط بنانے کے فیصلے کیے گئے۔ ضلعی سطح پر فیصلوں کے مؤثر عمل درآمد کے لیے ضلعی رابطہ کمیٹیاں قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ پسماندہ اور متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے پر بھی زور دیا گیا تا کہ عوام کی محرومیوں کا ازالہ ممکن ہو سکے۔





