فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے خاتمے اور تعطل کا شکار مذاکرات کو بحال کرنے کے لیے ایک اہم اور غیر روایتی ثالث کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنی غیر معمولی سفارتی مہارت کے ذریعے دونوں حریف ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔
منفرد حکمت عملی
رپورٹ کے مطابق دو مرتبہ انٹیلیجنس اداروں کی قیادت کرنے والے پاکستان کے آرمی چیف نے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی ہے جو ماضی کی روایتی سفارت کاری سے مختلف ہے۔ انہوں نے نہ صرف تہران میں قیام کے دوران ایرانی سیاسی و عسکری قیادت اور پاسدارانِ انقلاب سے براہ راست رابطے کیے بلکہ وہ مسلسل وائٹ ہاؤس کے ساتھ بھی رابطے میں رہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے حال ہی میں فیلڈ مارشل کو ’شاندار‘ قرار دیا تھا، ان کے ساتھ پاکستانی قیادت کے مضبوط ذاتی تعلقات اس عمل میں کلیدی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
ثالث کے طور پر کردار
فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ پاکستان اب ایک غیر متوقع مگر انتہائی اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ اگرچہ منگل کے روز ایران کی جانب سے اسلام آباد مذاکرات میں شرکت سے معذرت کے باعث عمل کچھ رکاوٹ کا شکار ہوا، تاہم پاکستانی حکام اب بھی اختلافات کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ماہرین کے مطابق عاصم منیر ایران کے داخلی طاقت کے مراکز اور امریکی انتظامیہ کے مزاج سے بخوبی واقف ہیں، اسی لیے وہ ایک جامع حکمت عملی کے تحت سفارت کاری کر رہے ہیں۔
جنگ بندی میں توسیع
واضح رہے کہ امریکی صدر نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر ہی جنگ بندی میں توسیع کی تھی، جس نے اس سفارتی مشن پر عالمی اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں ممکنہ ‘امن معاہدے’ کے لیے تیاریاں بھی کی گئی تھیں، تاہم تہران اور واشنگٹن کے درمیان عدم اعتماد کی گہری خلیج اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ کردار نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت ہے