پاکستان اور اتحادیوں کی فعال سفارت کاری کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے توسیعی عزائم ناکام ہو گئے اور اسلام آباد مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
عوامی حمایت سے محروم کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے نے بلوچستان میں مشترکہ پناہ گاہیں قائم کر کے باہمی تعاون مزید بڑھا لیا، دہشت گرد نیٹ ورک مضبوط ہونے لگے۔
نریندر مودی کی جانب سے انڈونیشیا سے ایک اور اعزاز حاصل کیے جانے کے بعد، ان کے غیر ملکی دوروں اور تمغوں کے حصول کی غیر معمولی خواہش کو شدید طنز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بدخشاں میں سونے کی کانوں پر قبضے اور قندھار کی اجارہ داری کے خلاف طالبان کمانڈر جمعہ خان فتح کی قیادت میں مسلح بغاوت شروع ہو گئی ہے اور وزیر دفاع ملا یعقوب کی ثالثی بھی ناکام ہو چکی ہے۔
کابل میں ٹی ٹی پی کے مارے گئے دہشت گرد کے جنازے کے دوران طالبان نواز عالم نے پاکستان کے خلاف جنگ کی کھلی اپیل کی ہے، جس پر ‘یوناما’ کی خاموشی پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔