عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ پاکستان 6 دہائیوں سے عالمی امن کا علمبردار ہے اور اب تک 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد پاکستانی اہلکار اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے اپنی خدمات پیش کر چکے ہیں۔
شہباز شریف نے جدہ میں شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی، جس میں علاقائی سلامتی، امریکہ ایران سیز فائر اور دوطرفہ اقتصادی و دفاعی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسلام آباد میں جاری بین الاقوامی امن مذاکرات کے خلاف مخصوص حلقوں کے منفی پراپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے مبصرین نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا کردار کسی فریق کا چناؤ نہیں بلکہ خطے میں استحکام کے لیے اسٹریٹجک خودمختاری کا اظہار ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے کہا کہ “پاکستانیوں نے اس پورے عمل میں شاندار ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور ہم ان کی دوستی اور اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوششوں کو سراہتے ہیں”۔
افغان طالبان سرحد پار سے شدت پسندوں کو پاکستان میں داخل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاہم پاک فوج کی بروقت کارروائی کے باعث یہ کوشش ناکام بنا دی گئی۔ سکیورٹی حکام کے مطابق ناکامی کے بعد طالبان نے ردعمل میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا۔
گورو آریا نے اپنے بیان میں کہا کہ: “ہم اسرائیل کے حقیقی بھائی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیل لبنان پر 100 اور غزہ پر 50 بم گرائے”، جسے مبصرین نے کھلی جارحیت اور تشدد کی حمایت قرار دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی مشترکہ سفارتی کوششوں کے باعث 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات ممکن ہو سکے