ایران نے امریکہ کی مسلسل چھٹی رات کی بمباری کے جواب میں کویت، بحرین اور قطر میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ شام میں بھی امریکی کمانڈ سینٹر پر حملے کا دعویٰ کیا گیا۔
برطانیہ نے 2026 سے 2029 تک افغانستان کے لیے سالانہ 105 ملین پاؤنڈ امداد کا اعلان کیا ہے، تاہم طالبان دور میں خواتین کے حقوق کی پامالی اور بگڑتی انسانی صورتحال کے پیشِ نظر ناقدین اس امداد کے مؤثر استعمال پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
جے یو آئی کے رہنما مفتی کفایت اللہ کی جانب سے پاک فوج کے خلاف حالیہ بیان بازی پر عوامی حلقوں نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی متنازع سرگرمیوں کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔
جی ایس پی پلس رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ماحولیات، انسانی حقوق اور لیبر قوانین میں اہم اصلاحات کیں جبکہ یورپی یونین کو 7.5 ارب یورو کی ریکارڈ برآمدات حاصل کیں۔
سابق افغان کمانڈر جنرل سمیع سادات نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کو بھارت سے مالی معاونت حاصل ہو رہی ہے، جو بعد میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہوں کو پاکستان میں حملوں کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔
طالبان کے وزیرِ انصاف عبدالحکیم شرعی نے قندھار میں خطاب کے دوران بظاہر وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کابینہ ارکان کی وفاداری پر سوالات اٹھا دیے۔
امریکی افواج نے ایران کے خلاف مسلسل چھٹی رات بھی فضائی کارروائیاں جاری رکھیں، جن میں بندر عباس، بوشہر، اہواز اور ایرانشہر میں بمباری کی گئی، 5 پل تباہ اور 7 افراد جاں بحق ہو گئے۔